حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

اگر چہ میں نے اپنی زندگی صبح وشام کی قید کے ساتھ ہی بسر کی اور کائنات کی دیگر چیزوں کی طرح زمان ومکان کی قید ہی میں رہا لیکن میرا تعلق دنیا کے پرانے نظام سے رہا اور میں مادی  ضروریات سے بے نیاز ہوگیا

حضورِ رسالت مآبؐ میں

            جب زمانے کا ہنگامہ میرے لیے بے حد گوار اور انتہائی ناقابل برداشت ہو گیا اور مجھ میں اُن دیکھوں، تکلیفوں اور مصیبوں کو دیکھنے کی تاب نہ رہی جو مسلمانوں پر نازل ہورہے تھے تو میں نے سوچاکہ اس دنیا سے کسی اور دنیا میں چلا جاؤں تو بہتر ہے۔ چنانچہ میں نے سفر کا سامان باندھا اور اس دنیا سے رُخست ہوگا۔ اگر چہ میں نے اپنی زندگی صبح وشام کی قید کے ساتھ ہی بسر کی اور کائنات کی دیگر چیزوں کی طرح زمان ومکان کی قید ہی میں رہا لیکن میرا تعلق دنیا کے پرانے نظام سے رہا اور میں مادی  ضروریات سے بے نیاز ہوگیا۔ آخر کار فرشتے مجھے سرکارِ دو عالم ؐ کی محفل میں لے گئے اور رحمت عالم ؐ کے حضور پیش کردیا۔

حضور ؐ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔

           “اے حجاز کے باغ کی بلبل! تیرے نغموں کی حرارت سے باغِ ملت کی ایک ایک کلی کا پگھل رہا ہے۔ اے شاعرِ اسلام ! اے وہ کو ملت کے غم میں فنا ہو چکا ہے۔ تیرا دل ہمیشہ ہماری محبت کے نشے سے مست رہتا ہے۔ اسلام کی محبت تیری رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے۔ تیری عاجزی کا مقام ایسا ہے کہ اس کے رنگ ِ عبو دیت پر عاشقوں کے نیاز بھرے سجدوں کو بھی رشک آئے۔ تو دنیا کی پستی سے اُڑ کر آسمان کی طرف آیا ہے۔ فرشتوں نے تجھے اونچا اُڑنا سکھادیاہے۔ تو دُنیا کے باغ سے خوشبو کی طرح نکل کر یہاں آیا ہے۔ بھلا یہ تو بتا کہ ہمارے لیے تحفہ لایاہے؟”

            “اے سرورکائنات ؐ !اے فخرِ موجودات ؐ! اے میرے آقاؐ دنیا میں امن، چین اور آرام نصیب نہیں۔ آسودگی اور راحت کاکہیں نام نہیں ۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ جس زندگی کی سب کی تلاش اور جستجو ہے، اس کا دنیا میں  کہیں وجود ہی نہیں ۔ اگر چہ دنیا کے باغ میں لا لہ و گل کے ہزاروں پھول ہیں لیکن وہ کلی کہیں دکھائی نہیں دیتی جس میں وفا کی خوشبوہو۔ اگرچہ دنیا میں خدا کے نام پر سر جھکا نے والے مسلمان ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں ہیں لیکن اسلام کے نام پر سر کٹانے والے بہت کم ہیں ۔ تاہم میں خضور کی بارگاہ میں نذر کے طور پیش کرنے کے لیے شیشے کی ایک صراحی لایا ہوں ۔ اور اے مرے آقاؐ جو چیز اس صراحی میں ہےوہ، کائنات کا تو ذکر ہی کیاہے ، بہشت میں بھی نہیں ملتی۔ اے شاہِ خیرالامم! اس میں آپ کی امت کی آبروجھلک رہی ہے یعنی طرابلس کے شہید کے خون سے لبریز ہے!”

            علامہ اقبالؒ نے اس نظم میں انتہائی اثر انگیز انداز میں طرابلس کے شہیدوں کوخراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔طرابلس (جسے آج کل لیبیا کتے ہیں) رسمی پر سلطنت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا۔ اٹلی نے انگیروں کی شہ پاکر 1911ء میں طرابلس پر حملہ کردیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے پاس بحری بیڑا تو تھا نہیں، اس کی فوجیں مصر سے گزر کر ہی طرابلس پہنچ سکتی تھیں اورمصر کا راستہ انگیزوں نے روک رکھا تھا۔ ایسے میں نوجوان بہادر تُرک بھیس بدل بدل کر مصر کے غیر معروف راستوں سے گزر تے ہوئے طرابلس پہنچے اور عربوں کو منظم کرکے اٹلی کی فوجوں سے لڑایا ۔ ان کی کوششوں سے ترُک ،عرب اورمصری مل کراٹلیکے مقابلے پر آگئے تھے اور اُنکھوں نے غیر معمولی قربانیاں دے کر اٹلی کی پیش قدمی روک دی تھی۔ یورپی طاقتوں نے جب اٹلی کو شکت سے دوچار ہوتے دیکھا تو بلقانی ریاستوں کو شہ دے کر ترکی پر حملہ کرادیا۔ اس طرح ترکوں کے گھر میں جنگ شروع ہوگئی اور بہادر ترک سالاروں کو طرابلس چھوڑ کر واپس ترکی آنا پڑا۔

              علامہ اقبالؒ نے یہ نظم بادشاہی مسجد لاہور کے اُس جلسے میں پڑھی جو 1912ء میں جنگ بلقان کے سلسلے میں ترکوں کی مالی امداد کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر منعقد ہواتھا۔ یہ نظم پڑھتے ہوئے وہ خود بھی روے تھے اور حاضرین کو بھی بے طرح رُلایاتھا۔

 (حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری