حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

رات کی پوجا کرنے والی چمگاردڑوں کو تو صبح کے وقت آسمان پر نمودار ہونے والا اُجالا سخت تکلیف دہ معلوم ہوتاہے۔ یہی حالت قوم کی ہے۔ شاعر قوم کو بیدار کرنا چاہتا ہے لیکن قوم اس کے پیغٖامِ بیدار ی کی طرف متوجہ ہی نہیں رہتی

عُرفی

            عرفی کا شاعرانہ تخیل اس قدر بلند ہے کہ اس کی شاعری میں انسانی تخیل اپنی معراج پر پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ اُس کی طبعیت میں غضب کی جدت تھی اور طرز بیان میں بے پناہ زور تھا اُس نے اپنے فکر و خیالات کے کمالات جیسے فلسفیوں کے دفتر قربان کئے جاسکتے ہیں۔ اُس کے کلام میں عاشقانہ سوز و گداز اس درجہ پایا جاتاہے کہ پڑھنے والا تڑپ اٹھتا ہے۔ اُس نے عشق کی فضا میں ایسے نغمے گائے ہیں جنھیں سُن کر دل بے تاب ہو جاتاہے اور آنکھیں بے اختیار آنسو بہانے لگتی ہیں۔

میرے دل نے ایک دن اُس کی قبر سے شکایت کی۔

           “اے کہ تیرے تخیل کی بلندی اور قلم کی جولانی پر ہر کسی کو رشک آتاہے اب دنیا کے ہنگامے میں بے قراری کا کوئی سامان اور بے تابی کا کوئی رنگ نظر نہیں آتا ۔ مسلمانوں میں جدوجہد کا جذبہ سرد پڑ گیا ہے اور اُن میں وہ تڑپ ، وہ بے قراری نظر نہیں آتی جو اُن کے اسلاف کا امتیازی نشان تھی۔ قوم کے مزاج میں کچھ ایسی تبدیلی آگئی ہے کہ جدوجہد کی وہ سیمابی کیفیت جو کھبی پہلے موجود تھی، اب آدھی رات کے وقت جو آہ و فریاد کرتاہے، وہ اُن کےکانوں کے لیے بوجھ بن جاتی ہے بھلا جب قوم خوابِ غفلت سے بیداری ہونا ہی نہ چاہتی ہو تو اُنھیں شاعر کا پیغام ِ بیداری کیسے پسند آسکتاہے۔ وہ اس پیغام کی طرف کیسے متوجہ ہوں جب کہ یہ پیغام اُن کی طبیعتوں پر گراں گزرتاہے اور وہ اس سے سخت ناگواری محسوس کرتے  ہیں۔ بھلا کسی کی فریاد کا شعلہ اندھیرے کو دُور کرے تو کیسے کرے؟ رات کی پوجا کرنے والی چمگاردڑوں کو تو صبح کے وقت آسمان پر نمودار ہونے والا اُجالا سخت تکلیف دہ معلوم ہوتاہے۔ یہی حالت قوم کی ہے۔ شاعر قوم کو بیدار کرنا چاہتا ہے لیکن قوم اس کے پیغٖامِ بیدار ی کی طرف متوجہ ہی نہیں رہتی ۔ کیونکہ وہ بیدار ہونا ہی نہیں چاہتی ۔ بھلا جب کوئی قوم ظلمت کو مقصدِ  حیات بنالے تو وہ روشنی کی طرف کیسے مائل ہو سکتی ہے۔ جس قوم کو غفلت کی نیند عزیز ہو جائے۔ اُسے بیدار ی کے پیغام کی طرف کیسے متوجہ کیا جاسکتا ہے؟”

              “اے شاعر! دُنیا والوں کی شکایت نہ کر ۔ اپنی قوم کے رویے کی بابت حرفِ شکایت زبان پر مت لا۔ اگر تویہ دیکھتا ہے کہ تیری قوم غفلت کی گہری نیند سورہی ہے تو اپنے نغمے کی لے کو اور اونچا کردے۔ اگر نغمے کی لذت سرد پڑتی نظر آئے تو تیری نو ا اور بلند ہوجانی چاہیے۔ اس کی تلخی ، اس کی کاٹ کچھ اور بڑھ جانی چاہیے۔ اُونٹ کی پشت پر محمل بھاری ہو اور اُونٹ کی رفتار سُست پڑ جائے تو حُدی کے نغمے کو اور زیادہ تیز کردے اگر قوم تیرے پیغام کو اپنے لیے ایک ناگوار بوجھ خیال کرتی ہے تو تجھے مایوس اور دل شکستہ ہو کر بیٹھے رہنے کی بجائے اپنا پیغام قوم کو اور زیادہ جوش و خروش سے سنانا چاہیے۔”

            علامہ اقبالؒ نے اس نظم میں عُرفی کے ایک مشہور شعر کی تضمین کی ہے ۔ اس طرح ایک طرف تو اُنھوں نے عرفی کی شاعرانہ عظمت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، دوسری طرف عرفی کی زبان سے قوم کی بیدار ی اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والوں کو یہ قیمتی مشورہ دیا ہے کہ اگر قوم اُن  کی باتوں کی طرف متوجہ نہ ہو تو اُنھیں اس سے مایوس ہونے کی بجائے اپنے پیغام کو اور زیادہ جوش و خروش سے قوم کے کانوں تک پہنچانا چاہیے۔ انھیں قوم کے رویے سے دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے اور ہمت ہار کر بیٹھے رہنے کی بجائے اور زیادہ سرگرمی ، جوش اور ولولے سے کام لینا چاہیے۔ صحرا میں جب اُونٹ کو محمل کا بوجھ زیادہ محسوس ہونے لگتاہے اور اس بوجھ کی وجہ سےاُس کی رفتار سُست پڑجاتی ہے تو ساربان اپنی حُدی کے نغمے کی آواز کو اور زیادہ بلند کر دیتے ہیں اور اُونٹ اس نغمے میں مست ہو کر زیادہ تیز چلنے لگتے ہیں۔

(حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری