حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

یادرکھ ! حاضر کی شان  عارضی اور غائب کا شکوہ و دربدبہ ہمیشہ کے لیے رہنے والا ہے ۔ اس دنیا میں کفر کی ظاہری شان وشوکت محض عارضی اور چندروزہ ہے جب کہ اسلام کی شان و شوکت دائمی اورابدی ہے ۔ اس دنیا میں خدا کے سوا جو کچھ بھی ہے، اس کی شان جلد ختم ہوجائے گی مگر خدا کی شان ہمیشہ قائم رہے گی۔ کفر ایک دن لازماً مٹ جائے گا لیکن اللہ چوں کہ حق ہے

کفر واسلام

تضمین بر شعر میر رضی دانش

ایک دن اقبال ؒ نے کو ہِ طور پر خدا سے ہم کلام ہونے والے حضرت موسیٰ ؑ سے پُوچھا۔

          “اے حضرت ! آپ کے پاؤں کے نقش کی بدولت سینا کی وادی باغ و بہار بن گئی تھی۔ ذرا یہ تو فرمایے کہ کُفر تو دُنیا میں ہر جگہ جلوہ گر نظر آتا ہے لیکن خدا کا جلوہ کہیں نظر نہیں آتا۔ نمرود کی آگ سے اب تک شعلے اُٹھ رہے ہیں لیکن ایمانی قوت کے کرشمے کہیں دیکھنے میں نہیں آتے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟”

میرا سوال سُن کر حضرت موسیٰ ؑ نے جواب دیا۔” اے اقبال ؒ ! اگر تو مسلمان ہونے کا دعوے دار ہے تو غائب کو چھوڑ حاضر پر فریفتہ  نہ ہو۔ مسلمان کو ایمان بالغیب کی تعلیم کو مدِنظر رکھنا چاہیے ۔ اللہ نے مسلمانوں کو اُس خدا پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔

           “یہ حکم تو عام مسلمانوں کے لیے ہے لیکن اگر تیری طبیعت غائب کی بجائے حاضر کا جلوہ دیکھنے کا تضاضا کرتی ہے تو اس کے لیےضروری ہے کہ پہلے تو اپنے اندر حضرت ابراہیم ؑ کا سا ایمان پیدا کر کہ اُنھیں آگ میں ڈالا گیا تو پھر بھی وہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔ وہ آگ اُن کا بال تک بیکانہ کر سکی اور خدا کی رحمت سے وہ آگ تیرے وجود کو جلا کر خاک کر ڈالے گی، لیکن اگر تو اس مقام ومرتبہ  تک نہیں پہنچ سکتا تو پھر ایمان بالغیب حاصل کر اور حاضر کی بجائے غائب کا دیوانہ  بن جا۔

          “اگر تو غائب کا دیوانہ ہے اور تیرا ایمان بالغیب پختہ ہے تو کُفر کی ظاہری شان و شووکت کی کوئی پروانہ کر۔ جو کچھ پیش آرہاہے، اس سے بالکل بے پرواہوجا۔ فاران کی وادی میں اپنا خیمہ لگالے اور قدرت کے کرشموں کا انتظارکر۔ جب تو اسلامی تعلیم کا پابند ہوجائے گا اور ہر طرف سے دھیان ہٹاکر اپنے دل میں خدا کی محبت کے جذبے کو پختہ سے پختہ تر کرتا جائے گا تو قدرت تیری دست گیری کرے گی اور تجھے کُفر کے مقابلے میں وہ شوکت وکامرانی نصیب ہو گی جو پختہ ایمان والوں ہی کا مقدر ہوا کرتی ہے۔

          ” یادرکھ ! حاضر کی شان  عارضی اور غائب کا شکوہ و دربدبہ ہمیشہ کے لیے رہنے والا ہے ۔ اس دنیا میں کفر کی ظاہری شان وشوکت محض عارضی اور چندروزہ ہے جب کہ اسلام کی شان و شوکت دائمی اورابدی ہے ۔ اس دنیا میں خدا کے سوا جو کچھ بھی ہے، اس کی شان جلد ختم ہوجائے گی مگر خدا کی شان ہمیشہ قائم رہے گی۔ کفر ایک دن لازماً مٹ جائے گا لیکن اللہ چوں کہ حق ہے، اس لیے وہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ یہ ایک ابدی صداقت ہے اور اس صداقت کو محبت کےساتھ وہی تعلق ہے جو روح کو جسم کےساتھ ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں خدا کی محبت ہے تو وہ اس صداقت کو نہ صرف پورے طور پر سمجھے گا بلکہ وہ اس صداقت کا پکامعتقد ہوگا۔

         “اگر نمردوکی آگ زمانے میں ورشن تو اس سے ہراساں ہونے کی ضررت نہیں۔ اگر کفردنیا میں ہر جگہ جلوہ گر نظر آتا ہے تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ شمع محفل میں روشن ہوکر سب کو اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ اس جلوے میں ایک طرح سے حاضر کی شان کی پائی جاتی ہے لیکن یہ شان عارضی ہے کیونکہ شمع محفل منور کرنے کے ساتھ اپنے آ پ کو پگلا دیتی ہے اور صبح ہوتے ہوتے شمع کا وجود بھی باقی نہیں رہتا لیکن اسکے مقابلے میں ہمارا نور شمع کی طرح دنیا والوں کو جلوہ نہیں دکھاتا بلکہ پتھر کی آگ کی طرح نگاہوں سے پوشیدہ رہتا ہے۔ یہ نور خدا کا نور ہے، اس کا وجود دائمی ہے، اس پر کبھی فنا طاری نہیں ہوگی۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کےلیے رہےگا۔”

          علامہ اقبالؒ نے اس نظم میں میر رضی دانش کے ایک شعر پر تضمین کیہے ۔ اس تضمین کے ذریعے علامہ اقبالؒ نے ایک طرف تو کفر اور اسلام کی فرق بڑی خوب صورتی سے بیان کیاہے دوسری طرف میر رضی دانش کے شعر سے اپنی خداداد ذہانت سے یہ بات پیدا کی ہےکہ کفر(بت) ظاہر ہےلیکن محبوب (خدا) پوشیدہ ہے۔  بُت کو فنا ہے لیکن ہمارے محبوب کو فنا نہیں ۔ اس نکتہ نے میر رضی دانش کے شعر کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔

(حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری