حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

اے نقاشِ ازل ! اس سے تو یہ  معلوم ہوتاہے کہ تو نے انسان کی شکل میں جو نقش عقل اور عشق کو ملاتے ہوئے بنایا تھا، وہ ابھی تک ادھورا اور نامکمل ہے کیوں کہ وہ ابھی تک اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکا

فرشتوں کا گیت

              اے خُدا! تو نے انسان کو جو عقل عطا کی تھی، وہ ابھی تک بے لگام ہے۔ ہر شخص تدبیراور چالاکی سے کام لیتے ہوئے اپنا مطلب نکالنے کےدرپے ہے۔ ہر کوئی اپنا اُلو سیدھا کرنے کی فکر میں ہے، خلق ِ خدا کی بھلائی کی فکر کسی کو نہیں۔ جہاں تک عشق اورمحبت کے جذبے کا تعلق ہے، ایسا معلوم ہوتاہے کہ اسے ابھی تک دنیا میں کوئی ٹھکانہ نہیں ملا۔ یہ جذبہ ابھی تک کوئی ایسی صورت اختیار نہیں کر سکا جس سے عوام کو فائدہ حاصل ہو یا ان کی بہتری کے لیے عمل میں آئے۔ کہیں کہیں اس کی جھلک ضرور نظر آتی ہے لیکن یہ جذبہ اتنا عام نہیں جتنا اسے ہونا چاہیےتھا۔

             اے نقاشِ ازل ! اس سے تو یہ  معلوم ہوتاہے کہ تو نے انسان کی شکل میں جو نقش عقل اور عشق کو ملاتے ہوئے بنایا تھا، وہ ابھی تک ادھورا اور نامکمل ہے کیوں کہ وہ ابھی تک اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکا۔

            اے خدا! انسانوں کی دنیا کا عجیب رنگ ہے۔ شرابی اور عیاش و اوباش ہوں یا عالم اور دین دار ، دولت میں کھیلنے والے امیر ہوں یا پیری کی گدیاں سجانے والے ، جسے دیکھوخلقِ خدا کی گھات میں بیٹھا ہے۔ جس کا جہاں تک بس چلتاہے، تیرے بندوں کو اپنی اپنی مرضی کے لیے استعمال کرتاہے۔ اے خدا ! تیری دنیا میں صبح وشام کی جو کیفیت پہلے تھی ، وہی اب بھی ہے اس میں کوئی فرق نہیں آیا۔

             اے خدا ! تیری دنیا کے دولت مندوں اور امیروں کو دیکھیں تو وہ عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں، دولت اور امیری کے نشےنے انھیں ہر چیز سے بے پروا اور غافل کر رکھا ہے۔ عیش و نشاط کی محفلیں سجانے کے سوا اُنھیں اور کوئی کام ہی نہیں ۔ اور اگر تیری دنیا کے مفلسوں  اور غریبوں پر نطر ڈالیں تو ان کی حالت حددرجہ بری ہے لیکن وہ اسی پر قناعت کیے بیٹھے ہیں۔ اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کرنے کی بجائے وہ اپنی مفلسی اور غریبی ہی کوتقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کیے ہوئے ہیں بلکہ اسی کو نعمتِ خدا وندی سمجھتے ہیں ۔ بندہ اور آقا، غلام اور مالک ، غریب اور امیر ان کی زندگیوں میں زمیں آسمان کا فرق ہے۔ بندہ غلام اور غریب کی کیفیت یہ ہے کہ اسے آرام کے لیے ٹھکانا بھی میسر نہیں۔ گلی گلی اور درد ر پھرنا اس کامقدر ہے۔ اس کے برعکس آقا، مالک اور امیر کی کیفیت یہ ہے کہ وہ اونچے اونچے اور عالی شان محلات میں عیش و عشرت کی زندگی گزاررہے ہیں۔

              اے خُدا ! اس دنیا کی کیفیت تو یہ کہ عقل ہو یا دین ، علم ہو یا فن سب ہوس، حرص اور لالچ کے غلام بنے ہوئے ہیں، عالموں ، دیندار وں ، عقل مندوں اور فن کاروں کو تو نے جو خوبیاں بخشی ہیں۔ ان کو وہ سب ذاتی برتری کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ وہ اوصاف اور وہ جوہر جنھیں خلقِ خدا سے محبت اور اس کی بہتری کے کام آنا چاہیے تھا ، وہ صرف اور صرف اپنی ذات اور اپنی ذات کے فائدے کے لیے وقف ہو کر رہ گئے ہیں۔ عشق کا جو جذبہ تو نے انسان کی فطرت میں رکھا تھا، وہ انسانوں کی مشکلات کاحل ثابت ہوسکتاتھا۔ اسی کی بدولت خلقِ خدا سے محبت اور اس کی بہتری کے لیے تڑپ انسانوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتی تھی۔ مگر یہ جذبہ بھی بہت محدود ہے اور اس کا فیض اتنا عام نہیں ہوا جتنا  ہونا چاہیے ۔

                اے باری تعالیٰ ! انسانوں کی زندگی کا جوہر یہی محبت  یہی عشق اور یہی تڑپ ہے۔ خودی اس محبت ، اس عشق کا جوہر ہے مگر افسوس کہ خودی کی یہ تیز تلوار ابھی تک نیام کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ انسان نہ ابھی تک اپنی خودی کو بروے کا ر لایا ہے اور نہ عشق اور زندگی کے وہ جوہر آشکار ہوئے ہیں جو تونے انسان فطرت کو بخشے ہوئے ہیں۔

(حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری