وزیراعظم کا 27 مارچ سے غربت کے خاتمے سے متعلق جامع پروگرام شروع کرنے کا اعلان              سونے کی قیمت ملکی بلند ترین سطح پر ،مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 70ہزار 500روپے              آصف زرداری کی بریت کے خلاف نیب کی درخواست سماعت کے لئے مقرر              ڈاکٹر سعید کے بیرون ملک جانے پر پابندی ختم              اسد منیر مبینہ خودکشی ،چیئر مین نیب کا انکوائر ی خود کر نے کا فیصلہ              چین سے 2ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے              نقیب اﷲقتل کیس میں راﺅ انوار سمیت دیگر ملزمان پر فرد جر م عائد              نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ نارمل، پنجاب حکومت کو بھجوادی              کرائسٹ چرچ واقعہ: جیسنڈا آرڈرن کا حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان       
تازہ تر ین

عالمی فوجداری عدالت کالیبیا سے سیف قذافی اور محمود الورفلی کی حوالگی کا مطالبہ

ہیگ(انٹرنیشنل ڈیسک)ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (انٹرنیشنل کرمنل کورٹ) کی چیف پراسیکیوٹر فاتو بیسودا نے ا سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو پکڑنے اور انہیں مذکورہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے حرکت میں آئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فاتو نے اپنے بیان میں عسکری کمانڈر محمود الورفلی کو حوالے کیے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ الورفلی، جو موت کے افسر کے نام سے جانا جاتا ہے، جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی مسلح افواج میں شامل ہے۔

چیف پراسیکیوٹر نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ الورفلی کو جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔ فاتو کے مطابق الورفلی 2016ء اور 2017ء کے دوران لیبیا میں سات واقعات میں براہ راست شریک رہا جس میں 33 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔یاد رہے کہ لیبیا کی فوج کے سربراہ نے رواں برس 12 جولائی کو محمود الورفلی کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ حکم الورفلی کے جیل سے فرار ہونے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔رواں برس جنوری میں بھی لیبیا کی فوج نے الورفلی کو حراست میں لیے جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اْس پر فوجی ہدایات اور احکامات کی خلاف ورزیوں اور بنغازی شہر میں افراتفری بھڑکانے کے الزامات تھے۔ الورفلی کئی وڈیو کلپوں میں اپنے قبضے میں موجود دہشت گرد قیدیوں کو عوامی مقامات پر فائرنگ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارے جانے کی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہوا نظر آیا تھا۔لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے مطابق خلیفہ حفتر نے ہر اْس شخص کی گرفتاری اور فوجی جیل پہنچانے کا حکم جاری کیا ہے جس نے درحقیقت شہری اور عسکری قانون کی خلاف ورزی کی ہو یا وطن، شہریوں یا ریاست کے اداروں کے امن و امان کے لیے خطرہ بنا ہو۔یاد رہے کہ عالمی فوجداری عدالت ایک سے زیادہ مرتبہ مشرقی لیبیا کے حکام سے الورفلی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ تاہم لیبیا کی فوج کی جنرل کمان نے اسے مسترد کرتے ہوئے اپنے سرکاری ترجمان احمد المسماری کی زبانی اعلان کیا کہ الورفلی کے خلاف عدالتی کارروائی لیبیا کے قوانین کے مطابق عمل میں آئے گی۔

مزید خبر یں

قندوز(نیوز ڈیسک)افغانستان کے صوبے قندوز میں طالبان کے حملے میں دو امریکی ہلاک جبکہ امریکی فضائی حملوں میں 4 افغان اہلکار کے علاوہ بچوں اور خواتین سمیت14 شہری جاں بحق ہوگئے۔قندوز میں دو امریکیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے ضلع گل ٹیپا کے ... تفصیل

تل ابیب (نیوز ڈیسک )اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ حملے کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس راکٹ حملے کے بعد امریکا کے دورے پر گئے ہوئے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن ... تفصیل

مقبوضہ بیت المقدس( نیوز ڈیسک) اتوار اور پیر کی درمیانی شب صحرائے نقب کی جیل میں حماس تنظیم کے ایک قیدی نے چاقو سے حملہ کر کے دو اسرائیلی جیلروں کو زخمی کر دیا۔ زخمی جیلروں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔بعد ازاں اسرائیلی ... تفصیل