کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

فرانسیسی عدالت نے بشارالاسد کے تین مقربین کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے

پیرس (ویب ڈیسک) فرانس کی ایک عدالت نے بشارالاسد کے تین مقربین جن کا تعلق انٹیلی جنس کے شعبے سے ہے کے ریڈ وارنٹ جاری کیے ہیں۔فرانسیسی اخبار نے اپنی  رپورٹ میں بتایا کہ شامی صدر بشار الاسد کے انتہائی قریبی ساتھی میجر جنرل علی مملوک سمیت تین عہدیداروں کو اشتہاری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ میجر جنرل علی مملوک شام کی حکمران جماعت البعث کے زیرانتظام نیشنل ڈیفینس دفتر کے انچارج ہیں اور انہیں بشارالاسد کی جانب سے کئی دوسری کلیدی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔

فرانسیسی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت کی طرف سے جن تین شامی عہدیداروں کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان پر فرانس کی عدالتوں میں جنگی جرائم کے کئی مقدمات قائم ہیں۔ ان پر شام میں انسانیت کے خلاف جرائم فرانس کی شہریت رکھنے والے دو شہرویں مازن دماغ اور ان کے بیٹے پیٹرک عبدالقادر کی جبری گم شدگی کا الزام بھی عاید کیا جاتا ہے۔

اسد رجیم کے مقربین کے خلاف مقدمات کے قیام اور ان عدالتی کارروائی میں ان دستاویزات اور تصاویر نے اہم کردار ادا کیا ہے جو سنہ 2013ء کو شامی فوج کے ایک فوٹو گرافر نے بیرون ملک فرار کے دوران فرانس منتقل کردی تھیں۔

ان میں جیلوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک کی ہزاروں تصاویر بھی شامل ہیں۔

شامی فوج نے مازن دباغ اور اس کے بیٹے عبدالقادر کو نومبر 2013ء کو فرانس سیواپسی کے دوران حراست میں لیا تھا۔

ان کی گرفتاری ایک پرامن مظاہرے میں شرکت کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ بعد ازاں دروان حراست دونوں باپ بیٹے کو اذتیں دے کر قتل کردیا گیا تھا۔

دونوں شہریوں کی جبری گم شدگی کے مقدمہ کی باقاعدہ سماعت اکتوبر 2015ء  سے شروع کی گئی تھی۔ 2016ء  کو تین ججوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں شامی حکومت اور انٹیلی جنس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔

مزید خبر یں

کابل(نیوزڈیسک)افغانستان کیلئے امریکی خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ امریکا عن قریب طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ایک اور کوشش کرے گا،اگر طالبان جنگ سے باز نہ آئے تو امریکا افغان فوج کی طالبان کے خلاف کارروائیوں میں معاونت جاری رکھے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ... تفصیل

طرابلس (نیوزڈیسک)لیبیا کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ترکی اور قطر کی جانب سے جاری مداخلت کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فوجی ترجمان بریگیڈیئر احمد المسماری کا کہنا تھا کہ جنوبی لیبیا میں جاری الکرامہ فوجی آپریشن کے ... تفصیل

دبئی (نیوزڈیسک)متحدہ عرب امارات کی ایک فضائی کمپنی فلائی دبئی نے کہا ہے کہ کمپنی شام کے لیے کمرشل پروازوں کی بحالی کے حوالے سے جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے احکامات کی منتظر ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ... تفصیل