لورالائی میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن ،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اہم کمانڈر 4ساتھیوں سمیت ہلاک              حکومت کا شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کےفیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ              وزیر پٹرولیم نے گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا              پاکستان نے غیرملکی سیاحوں کے ویزے کیلئے این اوسی کی شرط ختم کردی              منی لانڈرنگ کیس منتقلی کیخلاف اپیل، آصف زرداری کو جواب الجواب جمع کرانے کا حکم              لاہور ہائیکورٹ کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کر نے کا حکم              سپریم کورٹ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کر لی       
تازہ تر ین

اومْوامْوا خلائی مخلوق کا خلائی جہاز،زمینی معلومات حاصل کرنے کے لیے آیا تھا، تحقیق

نیویارک (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ ستاروں کے درمیان واقع خلا سے نظامِ شمسی میں داخل ہونے والا سیارچہ خلائی مخلوق کا خلائی جہاز ہو سکتا ہے جس کو زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہو۔

اس سیارچے کو 19 اکتوبر کو دریافت کیا گیا تھا اور اس کی رفتار اور زاویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظامِ شمسی سے باہر کسی اور ستارے کے نظام سے آیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہناتھا کہ وہ اب تک معلوم اجرامِ فلکی میں سے سب سے زیادہ لمبوترا ہے۔

یہ تازہ تحقیق امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے سمتھ سونین سینٹر فار ایسٹرو فزیکس نے کی ہے۔اس تحقیق میں اس امکان کو ظاہر کیا گیا کہ یہ لمبوترہ سیارچہ جس کی چوڑائی کے مقابلے پر اس کی لمبائی کم از کم دس گنا زیادہ ہے اور ایک لاکھ 96 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا کسی خلائی مخلوق کا ہو۔

ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز کو دی گئی اس تحقیق میں تحقیق دانوں کا کہنا تھاکہ اومْوامْوا مکمل طور پر فعال خلائی جہاز تھا جس کو زمین کے بارے میں جاننے کے لیے خلائی تہذیب نے بھیجا ہو۔ہارورڈ یونیورسٹی کی یہ تحقیق فلکیات کے سربراہ پروفیسر ایبراہم لوب اور شمیل بیالی نے کی ہے۔ پروفیسر ابھی تک چار کتابیں اور 700 سے زیادہ تحقیقی پیپرز بلیک ہول، کائنات کا مستقبل، خلائی مخلوق کی تلاش اور ستاروں پر لکھ چکے ہیں۔

یہ تازہ تحقیق اس لمبوترے سیارچے کی رفتار کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس لمبوترے سیارچے کو خلائی مخلوق کی شے سمجھا جائے تو ایک ممکنہ بات یہ ہو سکتی ہے کہ اومْوامْوا‘ ستاروں کے درمیان تیر رہا ہے۔تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ اومْوامْواکی تیز رفتار اور غیر معمولی مدار کا مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ اب فعال نہ ہو۔چلی میں واقع دوربین سے اس کا مشاہدہ کرنے والی امریکی ماہرِ فلکیات کیرن میچ اور ان کے ساتھیوں نے تخمینہ لگایا تھا کہ اس سیارچے کی لمبائی 400 میٹر ہے اور تیزی سے گھوم رہا تھا، جس کی وجہ سے اس کی چمک میں تیزی سے کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔

تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس تحقیق میں تحقیق دان یہ نہیں کہہ رہے کہ ’اومواموا‘ یقیناً خلائی مخلوق کا خلائی جہاز ہے۔ تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہونے کے خاطر خواہ امکانات موجود ہیں۔تحقیق دانوں کا کہنا تھا کہ یہ لمبوترہ سیارچہ خلائی مخلوق کا خلائی کباڑ بھی ہو سکتا ہے، غیر فعال سیل کرافٹ بھی ہو سکتا ہے جو غلطی سے یہاں آ گیا۔ یا پھر فعال خلائی جہاز جو ہمارے نظام شمسی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے آیا ہو۔

٭٭٭٭٭

مزید خبر یں

استنبول(نیوز ڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ امریکا جو کچھ بھی کہتا رہے، ترکی روس سے ایس 400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔انھوں نے یہ بات ترک نشریاتی ادارے سے ایک انٹرویو ... تفصیل

لندن (نیوز ڈیسک)برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس ترمیم شدہ بریگزٹ معاہدے کو پارلیمان سے منظور کرانے کے لیے درکار حمایت موجود نہیں ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اگر برطانیہ بریگزٹ کی تاریخ میں 22 مئی تک کی توسیع چاہتا ہے ... تفصیل

ریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب نے مقبوضہ گولان کے شامی علاقے پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرنے سے متعلق امریکی اعلان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے جاری ایک بیان میں گولان کے ... تفصیل