کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

دنیا بھر میں بچے پیدا کرنے کی شرح میں زبردست کمی،محققین نے خطرے کی علامت قراردیدیا

نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک )محققین نے کہاہے کہ عالمی سطح پر خواتین کے بچے پیدا کرنے کی اوسط تعداد میں زبردست کمی سامنے آئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لانسٹ جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1950 سے 2017 تک ہر ملک کے اعداد و شمار اور رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس تازہ رپورٹ میں محققین نے بتایاکہ دنیا کے نصف ممالک میں ایک بے بی بسٹ آ رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی آبادی برقرار رکھنے کے لیے درکار بچے پیدا نہیں کر رہے۔محققین نے بتایاکہ ان کے لیے یہ نتائج حیران کن تھے اور ان کے مطابق معاشرے پر پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے زیادہ دادے دادیوں اور نانے نانیوں کی وجہ سے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔1950 میں خواتین اپنی زندگی میں اوسطًا 4.7 بچے پیدا کرتی تھیں۔ گذشتہ سال یہ شرح 2.4 تک گر گئی۔مگر ان اعداد و شمار میں مختلف ممالک کے درمیان فرق واضح نہیں ہوتا۔مغربی افریقہ کے ملک نائجر میں یہ شرح 7.1 ہے جبکہ سائیپرس یا قبرص میں یہ شرح ایک بچہ ہے۔برطانیہ میں یہ شرح 1.7 ہے جو کہ بہت سے مغربی ممالک سے مماثلت رکھتا ہے۔

جب بھی کسی ملک میں بچے پیدا کرنے کی شرح 2.1 سے کم ہونے لگے گی تو ملک کی کل آبادی آخرکار کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ جن ممالک میں بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہو وہاں ولادت کی شرح اس سے بھی زیادہ ہونا چاہیے۔اس تحقیق کے آغاز پر سنہ 1950 میں کوئی بھی ملک اس شرح سے کم پچے پیدا نہیں کر رہا تھا۔یونیورسٹی آف واشنگٹن میں انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوئیشن کے ڈائریکٹر پروفیسر کرسٹوفر مرے کا کہنا تھا کہ ہم ایک انتہائی اہم موڑ پر ہیں جہاں نصف ممالک میں بچے پیدا کرنے کی شرح انتہائی کم ہے اور اگر اس کا کچھ نہیں کیا جاتا تو ان ممالک میں آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

بچے پیدا کرنے کی شرح میں کمی کی تین اہم وجوہات بتائی گئی ہیں،جن میں سے ایک کم عمر میں بچوں کی اموات میں کمی (یعنی بچوں کی اموات میں کمی کے باعث خواتین اب قدرے کم بچے پیدا کرتی ہیں)جبکہ دوسری خاندانی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات تک رسائی اورتیسری خواتین میں تعلیم حاصل کرنے اور پیشہ ورانہ راستہ چننے کا رجحان ہے ،ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو بچے پیدا کرنے کی شرح میں کمی اچھی بات ہے۔لوگوں کے ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کیے بغیر ممالک کو اپنی آبادی میں عمر کا بہت مسئلہ شروع ہو جائے گا۔

مزید خبر یں

ریاض(نیوزڈیسک)سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعاء کے شمال مغرب میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں32باغی ہلاک ہوگئے ،عرب فوج کی جانب سے بمباری ... تفصیل

میکسیکو سٹی(نیوزڈیسک)میکسیکو میں پٹرول پائپ لائن میں زوردار دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہوگئے۔عالمی میڈیا کے مطابق میکسیکو سٹی کے شمالی علاقے سے گزرنے والی پٹرول پائپ لائن زوردار دھماکے سے پھٹ گئی،آگ کے شعلوں نے قریبی گاڑیوں کو اپنی لپیٹ ... تفصیل

واشنگٹن(نیوزڈیسک)وائٹ ہاوس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فروری کے مہینے میں، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے دوسری ملاقات کریں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری سارہ سینڈرز نے کہا کہ وائٹ ہاﺅس کے اس اعلان سے ... تفصیل