برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

دنیا بھر میں بچے پیدا کرنے کی شرح میں زبردست کمی،محققین نے خطرے کی علامت قراردیدیا

نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک )محققین نے کہاہے کہ عالمی سطح پر خواتین کے بچے پیدا کرنے کی اوسط تعداد میں زبردست کمی سامنے آئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لانسٹ جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1950 سے 2017 تک ہر ملک کے اعداد و شمار اور رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس تازہ رپورٹ میں محققین نے بتایاکہ دنیا کے نصف ممالک میں ایک بے بی بسٹ آ رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی آبادی برقرار رکھنے کے لیے درکار بچے پیدا نہیں کر رہے۔محققین نے بتایاکہ ان کے لیے یہ نتائج حیران کن تھے اور ان کے مطابق معاشرے پر پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے زیادہ دادے دادیوں اور نانے نانیوں کی وجہ سے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔1950 میں خواتین اپنی زندگی میں اوسطًا 4.7 بچے پیدا کرتی تھیں۔ گذشتہ سال یہ شرح 2.4 تک گر گئی۔مگر ان اعداد و شمار میں مختلف ممالک کے درمیان فرق واضح نہیں ہوتا۔مغربی افریقہ کے ملک نائجر میں یہ شرح 7.1 ہے جبکہ سائیپرس یا قبرص میں یہ شرح ایک بچہ ہے۔برطانیہ میں یہ شرح 1.7 ہے جو کہ بہت سے مغربی ممالک سے مماثلت رکھتا ہے۔

جب بھی کسی ملک میں بچے پیدا کرنے کی شرح 2.1 سے کم ہونے لگے گی تو ملک کی کل آبادی آخرکار کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ جن ممالک میں بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہو وہاں ولادت کی شرح اس سے بھی زیادہ ہونا چاہیے۔اس تحقیق کے آغاز پر سنہ 1950 میں کوئی بھی ملک اس شرح سے کم پچے پیدا نہیں کر رہا تھا۔یونیورسٹی آف واشنگٹن میں انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوئیشن کے ڈائریکٹر پروفیسر کرسٹوفر مرے کا کہنا تھا کہ ہم ایک انتہائی اہم موڑ پر ہیں جہاں نصف ممالک میں بچے پیدا کرنے کی شرح انتہائی کم ہے اور اگر اس کا کچھ نہیں کیا جاتا تو ان ممالک میں آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

بچے پیدا کرنے کی شرح میں کمی کی تین اہم وجوہات بتائی گئی ہیں،جن میں سے ایک کم عمر میں بچوں کی اموات میں کمی (یعنی بچوں کی اموات میں کمی کے باعث خواتین اب قدرے کم بچے پیدا کرتی ہیں)جبکہ دوسری خاندانی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات تک رسائی اورتیسری خواتین میں تعلیم حاصل کرنے اور پیشہ ورانہ راستہ چننے کا رجحان ہے ،ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو بچے پیدا کرنے کی شرح میں کمی اچھی بات ہے۔لوگوں کے ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کیے بغیر ممالک کو اپنی آبادی میں عمر کا بہت مسئلہ شروع ہو جائے گا۔

مزید خبر یں

بیجنگ (نیوز ڈیسک)چین کے شہر چینگ ڈے میں ہائی وے پر ٹور بس میں آگ لگنے سے 26 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔پولیس نے حادثے کی تفتیش کے لیے دونوں بس ڈرائیورز کو حراست میں لے لیا ہے، آگ لگنے کی وجہ ابھی سامنے ... تفصیل

بیجنگ(نیوزڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ میں چین پاک تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہوں، پاکستان استحکام کے قیام، معیشت کی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے لیے کوشاں ہے ، اسکی شاندار کامیابیوں پر ہمیں بے حد ... تفصیل

برسلز (نیوز ڈیسک)فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے کہا ہے کہ یورپ کو موجودہ بریگزٹ عمل کا یرغمال ہی نہیں بنے رہنا چاہیے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ماکروں نے برسلز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی منصوبے کو بریگزٹ کا قیدی بن ... تفصیل