وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 ہندو لڑکیوں کے اغوا کا نوٹس لے لیا              برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ،سوسال مکمل ہونے پر دنیا بھر میں تقاریب منعقد

world war 1

پیرس(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمن چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر ماکروں نے فرانسیسی علاقے ریتھونز کا دورہ کیا، جہاں ٹھیک سو برس قبل پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کی خاطر ایک تاریخی معاہدہ ہوا تھا۔ ان دونوں رہنماؤں نے ایک یادگاری تقریب میں بھی شرکت کی۔غیرملکی خبررساں ادار ے کے مطابق فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے چھپن کلومیٹر دور واقع کومپیئنئے کے جنگلات کو تاریخ میں ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔

گیارہ نومبر 1918کے دن اسی مقام پر واقع ریتھونز میں پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کی خاطر ایک ڈیل طے کی گئی تھی۔ جرمنوں اور اتحادی فورسز نے سن 1918 میں 11ویں ماہ کی گیارہ تاریخ کو گیارہ بجے کے قریب ٹرین کی ایک بوگی میں ایک ابتدائی معاہدہ کو حتمی شکل دی تھی کہ چار سالہ عالمی جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

اسی دن کی یاد تازہ کرنے کی خاطر جرمن چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اس مقام کا دورہ کیا اور پرانی یادوں کو تازہ کیا۔ اس موقع پر ان دونوں رہنماؤں نے علامتی طور پر دستخط کرنے کی تقریب کو دہرایا۔پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے سو برس مکمل ہونے پر ویک اینڈ پر کئی یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں 67 ممالک کے رہنما شریک ہو ئے۔پہلی عالمی جنگ کو دنیا کی تاریخ کی بدترین جنگی مہم قرار دیا جاتا ہے۔ اس چار سالہ تنازعے میں فرانسیسی فوج کے 1.4 جبکہ دو ملین جرمن سپاہی لقمہ اجل بن گئے تھے۔

یہ جنگ سن 1914 تا سن 1918 جاری رہی۔ اس جنگ میں مجموعی طور پر چالیس ملین افراد ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ اس جنگ میں 70 ملین فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔ فرانس کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس مناسبت سے یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔لندن میں منعقد ہونے والی ایک ایسی ہی تقریب میں جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر شریک ہوئے ۔ اتوار کے دن منعقد ہونے والی اس تقریب میں ملکہ الزبتھ کے علاوہ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے بھی شامل تھیں۔

مزید خبر یں

بماکو (نیوز ڈیسک)مالی میں شکاری قبیلے کے مقامی گاﺅں پر حملے اوراندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 115افراد ہلاک ہو گئے،حملہ آوروں نے تمام گھروں کوتیل چھڑک کر آگ لگادی،سیکڑوں افرادنے بھاگ کر جان بچائی تاہم ضعیف عمر لوگ،خواتین اورکئی بچے جھلس کر ہلاک ہوگئے۔ہلاکتوں میں ... تفصیل

پیرس(نیوز ڈیسک )فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے کہا ہے کہ شام میں انتہا پسند گروپ داعش کی نام نہاد ” خلافت“ کے سقوط سے فرانس میں دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کا نمایاں خطرہ بھی ختم ہو گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انھوں نے ٹویٹر پر ... تفصیل

نئی دہلی (نیوز ڈیسک)کانگریس رہنما راہول گاندھی گڑگاﺅں میں مسلمان خاندان پر قیامت ڈھانے والے انتہا پسندوں پر برس پڑے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی گڑ نامی گاﺅں میں مسلمان خاندان پر قیامت ڈھانے والے انتہا پسندوں پر برس ... تفصیل