اپوزیشن کا مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور معاشی امور پرحکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان              چمن ،پاک ،افغان سرحدی علاقے میں فورسز کی کارروائی، ایک دہشت گرد گرفتار              وزیراعظم نے اپوزیشن کے اسمبلی سے واک آﺅٹ کو این آر او لینے کی کوشش قرار دے دیا              فوادچوہدری کا ایک مرتبہ پھروزیراعلیٰ سندھ کے استعفے کا مطالبہ              کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

چائے کی ابتداء کیسے ہوئی؟خاص رپوٹ نے تہلکہ مچادیا

اسلام آباد(نیو زڈیسک)چائے کی دریافت اور اس کی ابتداء سے متعلق کئی کہانیاں مشہورہیں۔چینیوں کے مطابق چائے کی دریافت کا سہرا قدیم چینی دیومالائی بادشاہ شینونگ جو کہ ایک کسان بھی تھا اور چینی عقائد کے مطابق زراعت کا بانی بھی ۔اس کو صفائی کا اس قدر خیال تھا کہ اس نے تمام رعایا کو حکم دیا کہ وہ پانی ابال کر پیا کریں۔اس حوالے سے دو روایات پائی جاتی ہیں، ایک روایت کے مطابق بادشاہ شینونگ نے اپنے ایک مذہبی سفر کے دورانغلطی سے زہر سے بھری ایک جڑی بوٹی کھا لی تھی جس کے بعد وہ مرنے کے قریب پہنچ گیا۔اسی وقت ایک پتّا ہوا میں اڑتا ہوا اس کے منہ میں چلا گیا، شننونگ نے اس پتے کو چبا لیا اور اسی پتے نے اسے مرنے سے بچا لیا۔دوسری روایت کے مطابق ایک دن کسی جنگل میں بادشاہ کا پانی ابل رہا تھا کہ چند پتیاں ہوا سے اڑ کر دیگچی میں جا گریں۔ شینونگ نے جب یہ پانی پیا تو نہ صرف اسے ذائقہ پسند آیا بلکہ اسے پینے سے اس کے بدن میں چستی بھی آ گئی۔بادشاہ نے عوام کو حکم دیا کہ وہ بھی اسے آزمائیں۔ یوں یہ مشروب چین کے کونے کونے تک پھیل گیاوہاں سے یہ چائے سیاحوں اور تاجروں کی مدد سے پوری دنیا میں پھیلی۔برِصغیر میں چائے کا استعمال ایک دوائی کے طور پر کیا جاتا تھا۔ پانی میں چائےکی پتیاں ابال کر قہوہ بنایا جاتا تھا اور اسے پیا جاتا تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی مشرق سے ہر قسم کی اجناس کی تجارت کی ذمہ داری تھی۔ اسے چائے کی پتی مہنگے داموں چین سے خریدنا پڑتی تھی اور وہاں سے لمبے سمندری راستے سے دنیا کے باقی حصوں کی ترسیل چائے کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ انگریز شدت سے چاہتے تھے کہ خود اپنی نوآبادی ہندوستان میں چائے اگانا شروع کر دیں تاکہ چین کا پتّا ہی کٹ جائے۔اس منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ چائے کا پودا کیسے اگتا ہے اور اس سے چائے کیسے حاصل ہوتی ہے، سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس راز سے پردہ نہ اٹھ سکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اب کمپنی نے رابرٹ فارچیون کو اس پرخطر جاسوسی مہم پر بھیجا تھا۔اس مقصد کے لیے اسے چین کے ان علاقوں تک جانا تھا جہاں شاید مارکوپولو کے بعد کسی یورپی نے قدم نہیں رکھا تھا۔ اسے معلوم ہوا تھا کہ فوجیان صوبے کے پہاڑوں میں سب سے عمدہ کالی چائے اگتی ہے اس لیے اس نے اپنے رہبر کو وہیں کا رخ کرنے کا حکم دیا۔سر منڈوانے، بالوں میں نقلی مینڈھی گوندھنے اور چینی تاجروں جیسا روپ دھارنے کے علاوہ فارچیون نے اپنا ایک چینی نام بھی رکھ لیا، سِنگ ہُوا۔ یعنی ’شوخ پھول۔فارچیون
تربیت یافتہ ماہرِ نباتیات تھا اور اس کے تجربے نے اسے بتا دیا تھا کہ چند پودوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ پودے اور ان کے بیج بڑے پیمانے پر سمگل کر کے ہندوستان لانا پڑیں گے تاکہ وہاں چائے کی پیداوار بڑے پیمانے پر شروع ہو سکے۔یہی نہیں، اسے چینی مزدوروں کی بھی ضرورت تھی تاکہ وہ ہندوستان میں چائے کی صنعتی بنیادوں پر کاشت اور پیداوار میں مدد دے سکیں۔فارچیون کی محنت رنگ لائی اور بالآخر وہ حکام کی آنکھ بچا کر چائے کے پودے، بیج اور چند مزدور بھی ہندوستان سمگل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کی نگرانی میں آسام کے علاقے میں یہ پودے اگانا شروع کر دیے۔چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے خاصا پسند کرنا شروع کر دیا۔چینی تو ہزاروں برس سے کھولتے پانی میں پتی ڈال کر پیا کرتے تھے مگر انگریزوں نے اس مشروب میں پہلے چینی اور بعد میں دودھ ڈالنا شروع کر دیا۔ہر سال 15 دسمبر کو بین الاقوامی چائے کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن چائے کی پیداوار کرنے والے ممالک مثلاً بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، ویتنام، انڈونیشیا، کینیا، مالاوی، ملائیشیا، یوگنڈا، انڈیا اور تنزانیہ میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے ممالک کی توجہ چائے اگانے والے اور چائے کے کھیتوں میں کام کرنے والے کارکنان پر چائے کی تجارت سے ہونے والے اثرات پر مرکوز کرنا ہے۔

مزید خبر یں

واشنگٹن(نیوزڈیسک)وائٹ ہاوس نے کہاہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے بات کرتے ہوئے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شام میں ترکی کے سکیورٹی خدشات سے آگاہ ہیں اور اس حوالے سے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔غیرملکی ... تفصیل

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حریف ملک روس کے ساتھ مبینہ تعاون کی خبروں کے جلو میں امریکی ٹیلی ویڑن نیٹ ورک نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے درمیان ہونے والی ... تفصیل

خرطوم (نیوزڈیسک)سوڈان کے صدر عمر البشیر نے کہا ہے کہ مظاہروں کی وجہ سے حکومت تبدیل نہیںکی جائے گی۔عرب ٹی وی کے مطابق مغربی صربی دارفر میں اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب میں صدر البشیر کا کہنا تھا کہ عوام کو پرامن مظاہروں کا ... تفصیل