سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاﺅن کر اچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی              وزیر اعظم نیوز ی لینڈ کا خود کار و نیم خودکارہتھیاروں پر پابندی کا اعلان              جماعت اسلامی کا متحدہ مجلس عمل سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان              مشال قتل کیس میں مزیددو ملزمان کو عمر قید       
تازہ تر ین

اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہوا، اقوام متحدہ

تل ابیب (نیوز ڈیسک)مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مظاہروں کی چھان بین کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے کہاہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ 2018ءکے دوران غزہ میں مظاہروں کے دوران اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے بتایاکہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی نشانہ بازوں نے جانتے بوجھتے ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جن کی شناخت بچوں، طبی ارکان یا صحافیوں کے طور پر واضح تھی۔مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مظاہروں کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کے سربراہ سانتیاگو کینٹون نے کہاکہ اسرائیلی فوجیوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اور ان میں ایسی خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی زمرے میں آتی ہیں۔یہ انکوائری اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے کرائی گئی جو 30 مارچ 2018ءکو شروع ہونے والے مظاہروں کے سلسلے کے دوران 31 دسمبر تک اس سلسلے میں ہونے والی ممکنہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے تھیں۔ اس انکوائری رپورٹ کے مطابق ہر ہفتے منعقد ہونے والے مظاہروں کے دوران چھ ہزار سے زائد مظاہرین کو فوجی نشانہ بازوں نے نشانہ بنایا۔اقوام متحدہ کی ٹیم نے اسرائیل کے ان دعووں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ فلسطینیوں کے ان مظاہروں کا مقصد دہشت گردی کے اقدامات کو چھپانا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کمیشن کے پاس یہ یقین کرنے کے کافی شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی نشانہ بازوں نے صحافیوں، طبی کارکنوں، بچوں اور معذوری کے شکار افراد کو جانتے بوجھتے نشانہ بنایا کیونکہ ان کی شناخت واضح تھی۔تحقیقات کرنے والوں کے مطابق یہ بات بھی بہت واضح ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ایسے فلسطینیوں کو ہلاک یا زخمی کیا جو ’نہ تو براہ راست کسی اشتعال انگیزی میں ملوث تھے اور نہ ہی وہ کوئی واضح خطرہ تھے۔اقوام متحدہ کی ٹیم نے اسرائیل کے ان دعووں کو بھی مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ فلسطینیوں کے ان مظاہروں کا مقصد دہشت گردی کے اقدامات کو چھپانا تھا۔ بیان کے مطابق یہ مظاہرے سویلین نوعیت کے تھے، جن میں سیاسی عزائم بالکل واضح تھے۔اس کمیشن کے مطابق انہوں نے اپنی تحقیقات کے دوران 325 متاثرہ افراد، عینی شاہدین اور دیگر ذرائع سے انٹرویوز کیے جبکہ آٹھ ہزار مختلف دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن کے مطابق تفتیش کاروں نے ڈرون سے بنائی گئی فوٹیج اور دیگر صوتی و بصری مواد کا بھی جائزہ لیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی حکام نے کمیشن کی طرف سے معلومات اور اسرائیلی اور فلسطینی علاقوں تک رسائی کی مسلسل درخواستوں کے باوجود ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید خبر یں

صنعاء(نیوز ڈیسک)یمن کے نائب صدر علی محسن الاحمر نے کہا ہے کہ آئینی حکومت نے سویڈن میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے لیے غیرمعمولی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پسپائی اختیار کی مگر حوثی ملیشیا اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہے۔میڈیارپورٹس کے ... تفصیل

کابل(نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے ادارے نے کہاہے کہ افغانستان میں شدید بارشوں کے نتیجے والے آنے والے سیلاب کے باعث تقریباً ایک لاکھ بائیس ہزار شہری متاثر ہوئے ۔ سیلاب کی وجہ سے کم از کم تریسٹھ افراد ہلاک اور بتیس زخمی ... تفصیل

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تنازعے میں ایک ممکنہ سمجھوتہ آہستہ آہستہ قریب آتا جا رہا ہے۔ امریکا میں چینی درآمدات پر اضافی محصولات عائد کیے جانے کے خطرے کی وجہ سے چین،امریکاکے ساتھ جلد ہی کسی نہ کسی ... تفصیل