وزیراعظم کا نوٹس،سٹیزن پورٹل پر 33ہزار شکایات دوبارہ کھولنے کا حکم              سوات ایئرپورٹ 20 سال بعد دوبارہ کھولنے کا اعلان              اقوام متحدہ کا امن مشن میں شہید ہونے والے پاکستانی سپاہی کیلئے اعلیٰ اعزاز              شیخ رشید نے وفاقی کابینہ میں تین تبدیلیوں کا عندیہ دیدیا              جعلی اکاﺅنٹس کیس ،نیب نے آصف زر داری کو 29مئی کو طلب کرلیا              بلاول بھٹو کا ایچ آئی وی کے متاثرین کو زندگی بھر علاج کی سہولت دینے کااعلان              لاہور: عید کے روز ریلوے کرایوں میں 50 فیصد رعایت کا اعلان              رہنمامسلم لیگ ن ملک احمد کا چیئرمین نیب سے مستعفی ہونےکا مطالبہ              آشیانہ ،رمضان شوگر مل کیس کی سماعت 28مئی تک ملتوی       
تازہ تر ین

اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہوا، اقوام متحدہ

تل ابیب (نیوز ڈیسک)مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مظاہروں کی چھان بین کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے کہاہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ 2018ءکے دوران غزہ میں مظاہروں کے دوران اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے بتایاکہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی نشانہ بازوں نے جانتے بوجھتے ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جن کی شناخت بچوں، طبی ارکان یا صحافیوں کے طور پر واضح تھی۔مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مظاہروں کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کے سربراہ سانتیاگو کینٹون نے کہاکہ اسرائیلی فوجیوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اور ان میں ایسی خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی زمرے میں آتی ہیں۔یہ انکوائری اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے کرائی گئی جو 30 مارچ 2018ءکو شروع ہونے والے مظاہروں کے سلسلے کے دوران 31 دسمبر تک اس سلسلے میں ہونے والی ممکنہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے تھیں۔ اس انکوائری رپورٹ کے مطابق ہر ہفتے منعقد ہونے والے مظاہروں کے دوران چھ ہزار سے زائد مظاہرین کو فوجی نشانہ بازوں نے نشانہ بنایا۔اقوام متحدہ کی ٹیم نے اسرائیل کے ان دعووں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ فلسطینیوں کے ان مظاہروں کا مقصد دہشت گردی کے اقدامات کو چھپانا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کمیشن کے پاس یہ یقین کرنے کے کافی شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی نشانہ بازوں نے صحافیوں، طبی کارکنوں، بچوں اور معذوری کے شکار افراد کو جانتے بوجھتے نشانہ بنایا کیونکہ ان کی شناخت واضح تھی۔تحقیقات کرنے والوں کے مطابق یہ بات بھی بہت واضح ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ایسے فلسطینیوں کو ہلاک یا زخمی کیا جو ’نہ تو براہ راست کسی اشتعال انگیزی میں ملوث تھے اور نہ ہی وہ کوئی واضح خطرہ تھے۔اقوام متحدہ کی ٹیم نے اسرائیل کے ان دعووں کو بھی مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ فلسطینیوں کے ان مظاہروں کا مقصد دہشت گردی کے اقدامات کو چھپانا تھا۔ بیان کے مطابق یہ مظاہرے سویلین نوعیت کے تھے، جن میں سیاسی عزائم بالکل واضح تھے۔اس کمیشن کے مطابق انہوں نے اپنی تحقیقات کے دوران 325 متاثرہ افراد، عینی شاہدین اور دیگر ذرائع سے انٹرویوز کیے جبکہ آٹھ ہزار مختلف دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن کے مطابق تفتیش کاروں نے ڈرون سے بنائی گئی فوٹیج اور دیگر صوتی و بصری مواد کا بھی جائزہ لیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی حکام نے کمیشن کی طرف سے معلومات اور اسرائیلی اور فلسطینی علاقوں تک رسائی کی مسلسل درخواستوں کے باوجود ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید خبر یں

جدہ(نیوز ڈیسک) سوڈانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کی جانب سے سعودی عرب کو لاحق تمام تر خطرات میں سعودی حکومت کے ساتھ ہے۔سوڈان ایران اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں کے خطرات میں بھی ... تفصیل

تہران(نیوزڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکہ کا اپنی فوج مشرقی وسطیٰ میں منتقل کرنا بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے، امریکہ نے خطرناک کھیل کا آغاز کر دیا ہے۔ ایران سے حسن سلوک پر مبنی اقدامات اٹھائے لیکن اب ... تفصیل

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے قریب تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں میں ایرانی سپاہ پاسداران کا براہ راست ہاتھ ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی عہدیداروں نے بتایاکہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد ... تفصیل