وزیراعظم کا نوٹس،سٹیزن پورٹل پر 33ہزار شکایات دوبارہ کھولنے کا حکم              سوات ایئرپورٹ 20 سال بعد دوبارہ کھولنے کا اعلان              اقوام متحدہ کا امن مشن میں شہید ہونے والے پاکستانی سپاہی کیلئے اعلیٰ اعزاز              شیخ رشید نے وفاقی کابینہ میں تین تبدیلیوں کا عندیہ دیدیا              جعلی اکاﺅنٹس کیس ،نیب نے آصف زر داری کو 29مئی کو طلب کرلیا              بلاول بھٹو کا ایچ آئی وی کے متاثرین کو زندگی بھر علاج کی سہولت دینے کااعلان              لاہور: عید کے روز ریلوے کرایوں میں 50 فیصد رعایت کا اعلان              رہنمامسلم لیگ ن ملک احمد کا چیئرمین نیب سے مستعفی ہونےکا مطالبہ              آشیانہ ،رمضان شوگر مل کیس کی سماعت 28مئی تک ملتوی       
تازہ تر ین

طالبان سے بات چیت سست مگرمستحکم اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں،زلمے خلیل زاد

دوحہ /واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا کی جانب سے افغان امن مرحلے کے نمائندے زلمے خلیل زاد نے کہاہے کہ سست لیکن مستحکم اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں۔ادھرقطر میں طالبان ذرائع نے بتایاہے کہ معاہدے کا ابتدائی ڈرافٹ تیار ہے اور مذاکرات کے رواں مرحلے میں اسے حتمی شکل دیا جائے گا۔ انخلا کے وقت پر اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ہم امن کے لیے سست اور مستحکم اقدامات کر رہے ہیں۔مذاکرات میں امریکی ٹیم کی سربراہی کرنے والے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے 4 اہم امور پر غور کیا جارہا ہے جن میں امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا، طالبان کی القاعدہ اور داعش کی جنگ میں معاونت، جنگ بندی اور حکومت سمیت تمام افغان اداروں کی مذاکرات میں شمولیت شامل ہے۔خلیل زاد کا کہنا تھا کہ دوحہ میں مذاکرات کے بحال ہونے کے ساتھ ساتھ افغانستان کی اندرونی سطح پر طالبان سے بحث اور مذاکرات کے لیے کابل میں ٹیم تشکیل دی جارہی ہے۔ادھرقطر میں طالبان ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ معاہدے کا ابتدائی ڈرافٹ تیار ہے اور مذاکرات کے اس مرحلے میں اسے حتمی شکل دیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں اور نوروے کی حکومت مذاکرات میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے۔دوحہ میں مذاکرات کار 5 سالوں میں تمام امریکی فوجیوں کے انخلا پر ایک منصوبہ تشکیل دینے کا کام کر رہے ہیں۔پینٹاگون کی جانب سے تیار کیے گئے اس منصوبے کے تحت تمام غیر ملکی فوجیوں کو افغانستان سے 5 سالوں میں نکلنا ہوگا۔تاہم طالبان حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ انخلا کے وقت پر اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔یہ اب بھی واضح نہیں کہ طالبان افغان حکومت کے عہدیداروں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔کابل کی مسلسل درخواستوں کے باوجود طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ امریکا نے بھی اسرار کیا ہے کہ افغانستان پر حتمی معاہدے میں حکومت کو بھی شامل ہونا چاہیے۔امریکا نے یہ بھی کہا کہ امن مرحلے کی کامیابی کے لیے مکمل جنگ بندی ناگزیر ہے۔

مزید خبر یں

جدہ(نیوز ڈیسک) سوڈانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کی جانب سے سعودی عرب کو لاحق تمام تر خطرات میں سعودی حکومت کے ساتھ ہے۔سوڈان ایران اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں کے خطرات میں بھی ... تفصیل

تہران(نیوزڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکہ کا اپنی فوج مشرقی وسطیٰ میں منتقل کرنا بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے، امریکہ نے خطرناک کھیل کا آغاز کر دیا ہے۔ ایران سے حسن سلوک پر مبنی اقدامات اٹھائے لیکن اب ... تفصیل

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے قریب تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں میں ایرانی سپاہ پاسداران کا براہ راست ہاتھ ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی عہدیداروں نے بتایاکہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد ... تفصیل