سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاﺅن کر اچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی              وزیر اعظم نیوز ی لینڈ کا خود کار و نیم خودکارہتھیاروں پر پابندی کا اعلان              جماعت اسلامی کا متحدہ مجلس عمل سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان              مشال قتل کیس میں مزیددو ملزمان کو عمر قید       
تازہ تر ین

پاکستان ،بھارت خطرناک صورتحال میں داخل ہوچکے، ایٹمی جنگ چھڑ جانے کا خدشہ ہے ،امریکی اخبار

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکی اخبار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑجانے کا امکان ہے، دونوں ملک خطرناک صورتحال میں داخل ہوچکے ہیںجب تک پاکستان اور بھارت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے، خوف ناک صورت حال کا سامنا رہے گا ۔ دونوں ملکوں کے ایٹمی ہتھیاروں کے سبب اگلی محاذ آرائی اس سے کہیں زیادہ بعید ازقیاس ہوگی، اور ممکن ہے اتنی آسانی سے ختم نہ ہو۔ پلوامہ حملے کے بعد سے اب تک پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے، مگر یہ نسبتا کمی مسئلہ کا حل نہیں۔ حکومتوں کے درمیان ڈائیلاگ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ سونے پہ سہاگہ نریندر مودی پاکستان کے خلاف بات کرکے ہندو قوم پرستی کو ہوا دے رہے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گرفتار بھارتی پائلٹ واپس کیا جو خیر سگالی کے طور پر دیکھا گیا، اس سے نریندر مودی کو بھی موقع ملا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں، عالمی دباو کے بغیر دیرپا حل ناممکن ہے، ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا۔19999، 2002 اور 2008 میں پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے امریکی صدور بل کلنٹن، جارج بش اور براک اوباما نے اہم کردار ادا کیا مگر ٹرمپ انتظامیہ نے کشیدگی میں کمی سے متعلق اس وقت بیان دینے سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ پاک بھارت کشیدگی میں خاتمے کے لیے ٹرمپ کا بطور ثالث کردار نظر نہیں آتا، کیونکہ تجارتی مفادات سامنے رکھ کر ٹرمپ نے امریکا کا جھکاو پاکستان کے خلاف اور بھارت کی جانب کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نزدیک بھی بھارتی پالیسی سے عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے، مسئلہ کا حل پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کے درمیان بات چیت سے ممکن ہے۔بھارت کا پاکستان پر حملے میں بڑی تعداد میں دہشتگرد مارنے کا دعوی مشکوک ہے۔امریکا کے مقبول ترین اخباروں میں سے ایک نیویارک ٹائمز نے اپنے ادارئیے میں لکھا کہ سرحدوں پر دونوں ملکوں کی فوج تیار ہے اور حکومتوں کے درمیان ڈائیلاگ نہ ہونے کے برابر ہے۔اخبار کا کہناتھاکہ جب تک پاکستان اور بھارت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے، خوف ناک صورت حال کا سامنا رہے گا ۔اپنے اداریہ میں اخبار کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑجانے کا امکان ہے، دونوں ملک خطرناک صورتحال میں داخل ہوچکے ہیں۔اخبار کے مطابق دونوں ملکوں کے ایٹمی ہتھیاروں کے سبب اگلی محاذ آرائی اس سے کہیں زیادہ بعید ازقیاس ہوگی، اور ممکن ہے اتنی آسانی سے ختم نہ ہو۔اخبار کا کہنا تھا کہ بھارت کا پاکستان پر حملے میں بڑی تعداد میں دہشتگرد مارنے کا دعوی مشکوک ہے۔اخبار نے واضح کیا کہ 70برس میں 3 جنگیں لڑنے والے دونوں ممالک کے درمیان صورتحال خراب تر ہوسکتی تھی۔اخبار کاکہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد سے اب تک پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے، مگر یہ نسبتا کمی مسئلہ کا حل نہیں۔سرحدوں پر دونوں ملکوں کی فوج تیار ہے، مگر حکومتوں کے درمیان ڈائیلاگ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ سونے پہ سہاگہ نریندر مودی پاکستان کے خلاف بات کرکے ہندو قوم پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔اداریہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گرفتار بھارتی پائلٹ واپس کیا جو خیر سگالی کے طور پر دیکھا گیا، اس سے نریندر مودی کو بھی موقع ملا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں۔اخبار کے مطابق پاکستان اور بھارت جب تک مقبوضہ کشمیر کا بنیادی تنازعہ حل نہیں کرتے صورتحال غیر متوقع رہے گی۔اداریہ میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک دونوں ملکوں کو خوفناک صورتحال کا سامنا رہے گا۔امریکی اخبار نے پاک بھارت کشیدگی میں خاتمے کے لیے عالمی کردار کی بھی وکالت کی اور واضح کیا کہ عالمی دباو کے بغیر دیرپا حل ناممکن ہے، ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا۔

مزید خبر یں

صنعاء(نیوز ڈیسک)یمن کے نائب صدر علی محسن الاحمر نے کہا ہے کہ آئینی حکومت نے سویڈن میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے لیے غیرمعمولی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پسپائی اختیار کی مگر حوثی ملیشیا اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہے۔میڈیارپورٹس کے ... تفصیل

کابل(نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے ادارے نے کہاہے کہ افغانستان میں شدید بارشوں کے نتیجے والے آنے والے سیلاب کے باعث تقریباً ایک لاکھ بائیس ہزار شہری متاثر ہوئے ۔ سیلاب کی وجہ سے کم از کم تریسٹھ افراد ہلاک اور بتیس زخمی ... تفصیل

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تنازعے میں ایک ممکنہ سمجھوتہ آہستہ آہستہ قریب آتا جا رہا ہے۔ امریکا میں چینی درآمدات پر اضافی محصولات عائد کیے جانے کے خطرے کی وجہ سے چین،امریکاکے ساتھ جلد ہی کسی نہ کسی ... تفصیل