پاکستان بار کونسل نے فروغ نسیم کو کابینہ سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا
ایشیائی ترقیاتی بینک نے سال 2019 میں پاکستان کو 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کا ریکارڈ قرض دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز مشرف کےخلاف فیصلہ سنانےوالے جسٹس وقار سیٹھ کےخلاف ریفرنس دائر کرنے کےلئے درخواست دائر
سپریم کورٹ،ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے حلقے میں دوبارہ انتخابات کے حکم کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر ،بینچ 25 فروری کو سماعت کرے گا
وفاقی حکومت نے بیرسٹر خالد جاوید کی بطور اٹارنی جنرل تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
صدر مملکت کاپشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو اعزازی شہریت اور اعلی ترین سول ایوارڈ کا اعلان
ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو مزید 4 ماہ گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ
تازہ تر ین

عمر البشیر کی عالمی عدالت انصاف کو حوالگی انصاف کا تقاضا ہے‘ ایمنسٹی

خرطوم (نیوز ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے کہا ہے کہ سوڈان کے معزول صدر عمر حسن البشیر کو بین الاقوامی عدالت انصاف کو حوالے کرنا انصاف کا تقاضا ہے۔ عمر البشیر کے خلاف عالمی عدالت میں تحقیقات سے ظلم کا شکار ہونے والے افراد اور خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ سوڈان کے وزیر اطلاعات فیصل محمد صالح نے کہا ہے کہ حکومت نے دارفر صوبے کے باغی گروپوں کے ساتھ مل کر سابق حکومت کے اشتہاری قرار دیے گئے عہدیداروں کو عالمی عدالت انصاف کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔خیال رہے کہ عمر البشیر دارفر میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے الزامات میں بین الاقوامی فوج داری عدالت (آئی سی سی) کی طرف سے اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ سوڈانی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ آیا حکومت کب تک سابق عہدیداروں کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات میں تحقیقات کے لیے عالمی عدالت میں پیش کرے گی۔ادھر سوڈان کی خود مختار کونسل کے رکن محمد التعایشی نے کہا ہے کہ دارفر کے باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کو مطلوب سابق حکومت کے عہدیداروں کو عالمی عدالت کے حوالے کیا جائےگا۔تاہم التعایشی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا عمر البشیر کو بھی عالمی عدالت کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں۔ عمر البشیر کو عالمی عدالت کے حوالے کرنے کے لیے خرطوم کو معاہدہ روم کا حصہ بننا ہوگا۔خیال رہے کہ گذشتہ برس فوج کے ہاتھوں برطرف ہونے والے سوڈان کے صدر عمر البشیر پر دارفر میں بغاوت کچلنے کی کوشش کے دوران اجتماعی قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔دارفر میں 2003ء میں خرطوم حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا تھا۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے عمر البشیر کی وفادار فوج اور دیگر حامی ملیشیاﺅں کی طرف سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن اور فوجی آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کہ لاکھوں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ 2010ء میں دارفر میں تھوڑے عرصے کے لیے امن قائم ہوا مگر حالیہ تین برسوں کے دوران دوبارہ اس علاقے میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔عالمی عدالت انصاف نے 2008ء، 2009ء اور 2010ء میں معزول صدر عمر البشیر، ان کے وزیر دفاع عبدالرحیم محمد حسین، صدر کے معاون خصوصی اور وزیر داخلہ احمد محمد ھارون اور ایک عسکری گروپ کے سربراہ علی کوشیب کو دارفر میںجنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات میں اشتہاری قرار دے کران کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

مزید خبر یں

برسلز (نیوز ڈیسک) فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے شام میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے جرمنی، روس اور ترکی کی قیادت پر مشتمل سربراہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ روس اور ترکی پر مشتمل ایک سربراہ اجلاس جلد ... تفصیل

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایرانی عوام آزادانہ اور شفاف انتخابات کے مستحق ہیں۔ایک بیان میں پومپیو نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 7 زہار ایرانیوں کو پارلیمانی انتخابات میں نامزدگی ... تفصیل

مقبوضہ بیت المقدس (نیوز ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاری اور توسیع پسندی کے دو نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف اردن نے اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہودی آباد کاری کو یک ... تفصیل