پاکستان بار کونسل نے فروغ نسیم کو کابینہ سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا
ایشیائی ترقیاتی بینک نے سال 2019 میں پاکستان کو 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کا ریکارڈ قرض دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز مشرف کےخلاف فیصلہ سنانےوالے جسٹس وقار سیٹھ کےخلاف ریفرنس دائر کرنے کےلئے درخواست دائر
سپریم کورٹ،ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے حلقے میں دوبارہ انتخابات کے حکم کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر ،بینچ 25 فروری کو سماعت کرے گا
وفاقی حکومت نے بیرسٹر خالد جاوید کی بطور اٹارنی جنرل تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
صدر مملکت کاپشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو اعزازی شہریت اور اعلی ترین سول ایوارڈ کا اعلان
ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو مزید 4 ماہ گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ
تازہ تر ین

ترک فوج پر حملے ناقابل برداشت‘ترکی کی شامی فورسز کو ہر جگہ نشانہ بنانے کی دھمکی

انقرہ (نیوزڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے فوجیوں کو معمولی خراشیں بھی آئیں تو شامی فورسز کو ہر جگہ اورہر طریقے سے نشانہ بنائیں گے۔انقرہ میں پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران ترک صدر نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ ترک صدر نے کہا کہ اگر ہماری نگراں پوسٹوں یا دیگر مقامات پر تعینات فوجیوں کو معمولی سی چوٹ بھی لگی تو میں یہاں سے اعلان کر رہا ہوں کہ ہم ادلب کی سرحدوں یا امن معاہدے کی پرواہ کیے بغیر ہر جگہ شامی حکومت کی افواج کو نشانہ بنائیں گے۔رجب طیب اردوان نے مزید کہا کہ ہم اس کام کے لیے کوئی بھی راستہ اپنائیں گے، زمینی یا فضائی حملے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں گے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ شام کی حکومت شہریوں پر مسلسل حملے، قتل عام اور خون بہا رہی ہے۔ترک صدر نے الزام لگایا کہ دانستہ حملے کرکے شہریوں کو ترک سرحد کی طرف دھکیلانا مقصد ہے تاکہ ان کی آڑ میں سرحدی علاقے پر قبضہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ادلب میں کارروائیوں میں شامل طیارے اب آزادانہ حرکت نہیں کریں گے۔دوسری جانب روسی حکام نے بتایا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوتن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ادوان کے مابین فون پر شام میں کشیدگی کے خاتمے پر تبادلہ خیال ہوا۔حکام کے مطابق ماسکو اور انقرہ نے امن معاہدوں پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماﺅں نے شام میں جاری بحران کے حل کے مختلف پہلوﺅں کا جائزہ لیا، ادلب کشیدگی کو کم کرنے کے مسئلے پر تفصیلی بات کی۔واضح رہے چند روز قبل ترکی نے خبردار کیا تھا کہ اگر شام کے شمال مغرب سے متعلق محفوظ زون کے امن معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو انقرہ پلان بی (ایکشن) پر عملدرآمد شروع کردے گا۔ترکی کے وزیر دفاع ہولوسی آکار نے کہا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی رہی تو ہمارے پاس پلان بی اور پلان سی ہے۔واضح رہے کہ روس کے ساتھ 2018 کے معاہدے کی رو سے ترکی نے ادلب میں 12 پوسٹیں قائم کی تھیں۔واضح رہے کہ ترکی اور روس کے مابین شامی کرد فورسز (پی وائے جی) کو ترک سرحد سے 30 کلو میٹر دور رکھنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔

مزید خبر یں

برسلز (نیوز ڈیسک) فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے شام میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے جرمنی، روس اور ترکی کی قیادت پر مشتمل سربراہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ روس اور ترکی پر مشتمل ایک سربراہ اجلاس جلد ... تفصیل

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایرانی عوام آزادانہ اور شفاف انتخابات کے مستحق ہیں۔ایک بیان میں پومپیو نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 7 زہار ایرانیوں کو پارلیمانی انتخابات میں نامزدگی ... تفصیل

مقبوضہ بیت المقدس (نیوز ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاری اور توسیع پسندی کے دو نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف اردن نے اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہودی آباد کاری کو یک ... تفصیل