حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

پنینا تمانو شاتاایتھوپیا میں پیدا ہونے والی پہلی اسرائیلی وزیر نامزد

مقبوضہ بیت المقدس (نیوزڈیسک)اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسے شخص کو وزیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو ایتھوپیا میں پیدا ہوا،یہ اسرائیل کی وہ خاتون رکن پارلیمان ہیں جنھیں 1980 کی دہائی میں ایک خفیہ کارروائی کے دوران یہاں لایا گیا تھا۔پنینا تمانو شاتا کو نائب وزیر اعظم بینی گینٹز نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت کے ساتھ مل کر بنائی جانے والی متحدہ حکومت میں وزیر کے طور پر نامزد کیا ہے۔وزرا کی تعیناتی میں تاخیر کے بعد توقع ہے کہ اتوار کو نئی حکومت حلف اٹھا لے گی اور حکومت سازی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔اسرائیل میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہودی اکثر امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں۔حالیہ برسوں کے دوران پولیس کی طرف سے ایتھوپین نژاد یہودیوں کے خلاف بے جا طاقت کے استعمال پیش آئے ہیں، جس میں ان پر فائرنگ کے واقعات بھی شامل ہیں۔ اس کے باعث اس برادری کی جانب سے کئی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔ایک لاکھ 40 ہزار افراد پر مشتمل اس کمیونٹی میں بے روزگاری کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔اسرائیل میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی دوسری نسل کے نوجوان زندگی کے مختلف شعبوں میں کافی کامیاب رہے ہیں اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچے ہیں جن میں فوج، عدلیہ اور سیاست کے شعبے شامل ہیں۔پنینا تمانو شاتا کا تعلق سابق فوجی سربراہ بینی گینٹز کی بلیو اینڈ وائٹ سے ہے۔ انھیں امیگریشن کی وزارت کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔ایک اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میرے لیے یہ ایک سنگِ میل ہے جو چکر مکمل ہونے کے مترادف ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ تین سالہ بچی تھیں جب انھوں نے ماں کے بغیر ہجرت کر کے اسرائیل میں قدم رکھا جس میں پیدل ایک پورا صحرا پار کرنے کا سفر بھی شامل تھا۔ پھر اسرائیل میں اپنی برادری کی جدوجہد کی قیادت کی جو اب بھی کر رہی ہوں۔انہوں نے کہاکہ ان کی جدوجہد کا مقصد اس برادری کو معاشرے میں جگہ دلانا، تسلیم کرانا اور ان کے خلاف نسلی امتیاز ختم کرانا ہے۔1980 کی دہائی میں 16 ہزار کے قریب ایتھوپین یہودی شمالی ایتھوپیا سے پیدل سفر کر کے سوڈان پہنچے تھے تاکہ وہ اسرائیل پہنچ سکیں۔

مزید خبر یں

دبئی (نیوزڈیسک)اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل کا قانون مسترد کر دیا۔او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے انسانی حقوق کے مستقل آزادکمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ... تفصیل

غزہ سٹی(نیوزڈیسک) فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تمام سیاسی، تجارتی اور انتظامی معاہدوں کو فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے نیتن یاہو کی جانب سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو ... تفصیل

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکا کی نیول فورس نے ایران کو خبر دارکیا ہے کہ وہ کھلے پانیوں میں موجود امریکی بحری جنگی جہازوں کے قریب آنے کی حماقت نہ کرے ورنہ اسے جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عرب ٹی وی کیمطابق امریکی نیول فورس کی طرف ... تفصیل

AqwaaleZareen