حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون مسترد کردیا

دبئی (نیوزڈیسک)اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل کا قانون مسترد کر دیا۔او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے انسانی حقوق کے مستقل آزادکمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ڈومیسائل قانون کو مسترد کر دیا ہے۔اعلامیے کے مطابق بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون اوآئی سی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ اورعالمی برادری ڈومیسائل قانون واپس لینے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔اوآئی سی کمیشن نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنوائے۔انسانی حقوق کمیشن نے بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیرمیں نئے ڈومیسائل قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کورونا سے لڑ رہی ہے اور بھارت غیرقانونی اقدامات کر رہا ہے۔او آئی سی اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت کا یہ اقدام مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے، کشمیری عوام نے اس غیرقانونی اقدام کی سختی سے مذمت کی ہے جب کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ بھارت نے یکم اپریل کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق اب مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل (شہریت) کا نیا قانون نافذ ہوگا اور اْس کی رو سے سرکاری محکموں میں چپڑاسی، خاکروب، نچلی سطح کے کلرک، پولیس کانسٹیبل وغیرہ کے چوتھے درجے کے عہدوں کو کشمیریوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جبکہ گیزیٹِڈ عہدوں کے لیے پورے بھارت سے امیدوار نوکریوں کے اہل ہوں گے۔بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

مزید خبر یں

غزہ سٹی(نیوزڈیسک) فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تمام سیاسی، تجارتی اور انتظامی معاہدوں کو فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے نیتن یاہو کی جانب سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو ... تفصیل

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکا کی نیول فورس نے ایران کو خبر دارکیا ہے کہ وہ کھلے پانیوں میں موجود امریکی بحری جنگی جہازوں کے قریب آنے کی حماقت نہ کرے ورنہ اسے جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عرب ٹی وی کیمطابق امریکی نیول فورس کی طرف ... تفصیل

کابل (نیوزڈیسک) افغان طالبا ن کے سربراہ مولوی ہبت اللہ اخونزادہ نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر مستحکم رہے ،دونوں فریقین کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد میں کسی کو رکاوٹ نہ بننے دیا جائے ، امریکہ کے ساتھ معاہدے پر ... تفصیل

AqwaaleZareen