ملک بھر میں سونا 150روپے فی تولہ مہنگا              نواز شریف کی درخواست ضمانت پر نیب سمیت فریقین کو نوٹسز جاری،ہفتے میں رپورٹ طلب              قیادت کےخلاف نیب کی متوقع کارروائیاں ،پیپلز پارٹی کا حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ              بلاول بھٹو زرداری کا وفاقی حکومت پر قتل کی دھمکیوں کا الزام              سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر اور فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی              آصف زرداری نے نیب کا کال اپ نوٹس چیلنج کر دیا              بلاول کا نیب میں پیش ہونے کافیصلہ              پیرا گون ہاﺅسنگ کیس:خواجہ برادران کے ریمانڈ میں توسیع              وزیر خزانہ اسد عمر نے اپوزیشن کاالیکشن میں کالعدم تنظیموں کی حمایت لینے کا الزام مستردکردیا              سرکاری درس گاہوں میں 12ویں تک نیا نصاب پڑھانے کا فیصلہ       
تازہ تر ین

ملک میں بے روزگار افراد کے لیے بُری خبر، تشویشناک خبر نے ہلچل مچادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے اُس ملک کی معیشت کا مضبوط ہونا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے جہاں ایک تشویش کی لہر پیدا کی ہے وہیں بے روزگار طبقے کو بھی بُری خبر سنا دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت، روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور گرتی ہوئی ملکی معیشت کے باعث روزگار کے مواقع مزید کم ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے حالیہ بیان میں بینچ مارک ریٹ کو رواں ماہ مزید بڑھانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد ملک میں روزگار کے مواقع مزید کم ہو جائیں گے جبکہ بے روزگار افراد کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔اسٹیٹ بینک نے ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر سود کی شرح میں 1 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، اگر اس پر عملدرآمد ہوا تو کاروباری اور صنعتی مراکز دباؤ میں آجائیں گے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا یہ ممکنہ فیصلہ ملک بھر میں افراط زر کو کنٹرول کرنے کی وجہ سے ہو گا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پالیسی ریٹ تبدیل کیا جائے گا۔ پالیسی ریٹ سود کی وہ شرح ہے جس کی بنیاد پر کمرشل بینکس سینٹرل بینک سے قرضہ حاصل کرتے ہیں۔ سود کی شرح میں اضافے کی وجہ سے کمرشل بینک کے انٹرسٹ ریٹ میں بھی اضافہ ہو گا جس سے شہریوں ، کاروبارہ حضرات اور یہاں تک کہ حکومتی قرضوں میں بھی اضافہ ہو گا۔چونکہ مینوفیکچرنگ سے متعلق کاروبار کا تمام تر انحصار قرضوں پر ہوتا ہے لہٰذا اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سود کی شرح میں اضافہ کیا تو اس اضافے سے اس کاروباری سیکٹر پر کافی اثر پڑے گا۔ایسے حالات میں کمپنیاں مزید ملازمتیں دینا بند کر دیتی ہیں جبکہ کبھی کبھار تو کمپنیوں کے مالکان معاشی حالات کی وجہ سے کئی ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ بھی کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سود کی شرح میں اضافے کے بعد حکومت، جو بینکوں سے سب سے زیادہ قرضہ حاصل کرتی ہے، کو اپنے ترقیاتی منصوبوں پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے اور اپنے کئی منصوبوں پر تاخیری حربے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ یہی نہیں خریداری کے وقت کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی شہریوں کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی کابینہ نے وزارتوں اور سینئر حکام کا ’انٹرٹینمنٹ اینڈ گفٹ‘ بجٹ ختم کرنے کا بل منظور کرلیا۔وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں 30 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا اور ملک کی سیاسی، سلامتی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خصوصی عدالت نے غدار ی کیس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے سوالنامہ تیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کا بیان ویڈیو لنک یا کمیشن کے ذریعے ریکارڈ کرانے پر معاونت طلب کرلی ۔خصوصی عدالت میں ... تفصیل

 کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے جعلی اکاونٹس کیس اسلام آباد منتقل کرنے کے بینکنگ کورٹ کے فیصلے پر حکمِ امتناع دینے کی آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست مسترد کردی تاہم دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔چیف جسٹس سندھ ... تفصیل