ملک بھر میں سونا 150روپے فی تولہ مہنگا              نواز شریف کی درخواست ضمانت پر نیب سمیت فریقین کو نوٹسز جاری،ہفتے میں رپورٹ طلب              قیادت کےخلاف نیب کی متوقع کارروائیاں ،پیپلز پارٹی کا حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ              بلاول بھٹو زرداری کا وفاقی حکومت پر قتل کی دھمکیوں کا الزام              سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر اور فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی              آصف زرداری نے نیب کا کال اپ نوٹس چیلنج کر دیا              بلاول کا نیب میں پیش ہونے کافیصلہ              پیرا گون ہاﺅسنگ کیس:خواجہ برادران کے ریمانڈ میں توسیع              وزیر خزانہ اسد عمر نے اپوزیشن کاالیکشن میں کالعدم تنظیموں کی حمایت لینے کا الزام مستردکردیا              سرکاری درس گاہوں میں 12ویں تک نیا نصاب پڑھانے کا فیصلہ       
تازہ تر ین

کیا قبضہ مافیا کے سامنے سر جھکا دیں، چیف جسٹس نے انتہائی اہم بات کہہ دی

اسلام آباد(نیو زڈیسک) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم نے گھر توڑنے کا حکم نہیں دیا،ہمیں ہرحال میں قانون کی بالا دستی چاہیے، غیر قانونی عمارت اور قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے،تاثر دیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے صورتحال خراب کر دی، کیا قبضہ مافیا کے سامنے سر جھکا دیں، سندھ حکومت متاثرین کیلئے متبادل جگہ کا انتظام خود کرے۔ منگل کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی ، ایڈووکیٹ جنرل ، اٹارنی جنرل اور میئر کراچی وسیم اختر عدالت میں پیش ہوئے.ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تجاوزات آپریشن سے بڑے پیمانے پربیروزگاری میں اضافہ ہورہاہے، عدالت نے ایمپریس مارکیٹ اورملحقہ علاقوں کیلئے حکم دیاتھا، سندھ حکومت لوگوں کومتبادل جگہ فراہم کرنیکی کوشش کررہی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہا تھا پورے کراچی کیلئے ایمپریس مارکیٹ کوماڈل علاقہ بنایاجائے، یہ نہیں کہاتھاکہ کہیں اورآپریشن نہیں کرنا، تجاوزات تو ہٹ گئیں اب متبادل جگہ کا ایشو آئے گا، ،عدالت نے کہا حکم پر عمل ہوگیا ہے تو اب سندھ حکومت بتائے تجاوزات والوں کو کیا دیں گے۔میئرکراچی کی عدم پیشی پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہاں ہیں میئرصاحب کہاں سے آرہے ہیں ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ راستے بند ہو نے کی وجہ سے دیرہوئی ہوگی، تو جسٹس ثاقب نثار نے کہا باقی بھی آکربیٹھے ہیں،انہیں نہیں معلوم تھاسپریم کورٹ آناہے؟میئرکراچی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ایمپریس مارکیٹ سے تجاوزات ختم کردی ہیں، جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا میئرکراچی نے بتایا رضاکارانہ طورپر تجاوزات ختم ہورہی ہیں، ہم نے اس وقت حکم نہیں دیاتھایہ کام میئرنے خودشروع کیاتھا، فٹ پاتھ اورسڑکیں کلیئرکرانے کا حکم واضح تھا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم امن وامان کی صورتحال کیلئے اس وقت بھی فکرمندتھے، ہم نے ایمپریس مارکیٹ کوماڈل بنانے کیلئے کہاتھا، ہم چاہتے ہیں سڑک پرچلنے والوں کو بھی حق ملے۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا سپریم کورٹ نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال کس نے خراب کردی؟ پیدل چلنے والی خواتین،بچوں کا حق نہیں کہ راستہ صاف ملے؟ ہماراکیاتعلق؟بحالی اورمتبادل جگہ دیناحکومت کاکام ہے، جسٹس فیصل عرب نے کہا فٹ پاتھ اورسڑک کلیئرکرانابھی میئرکی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ متبادل جگہ فراہم کرناہیتوسندھ حکومت اپنا فرض ادا کرے، تاثردیا جا رہا ہے سپریم کورٹ نے صورتحال خراب کر دی ، ہر فرد چاہتا ہے فٹ پاتھ اورسڑکوں کیاطراف تجاوزات ختم ہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون پر عمل درآمد ہورہا ہے اور آپ کو اور وفاقی حکومت کو پریشانی لگ گئی ہے، آپ کو اندازہ نہیں میئر کراچی نے اپنا سیاسی مستقبل دا ئو پر لگا دیا ہے، ہمیں ہرحال میں قانون کی بالادستی چاہیے۔ ہم کراچی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگوں کی مصلحت آڑے آرہی ہے۔ ہمیں ہرحال میں قانون کی بالا دستی چاہیے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ہم کراچی والے ہیں ہم بھی بہتری چاہتے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی میں بڑے مسائل ہیں، سرکاری مکانوں پر لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، ہم نے خالی کرانے کا حکم دیا تو یہاں ہنگامہ شروع ہوگیا، گورنر صاحب نے کال کرکے کہا کہ یہاں امن و امان کی صورت حال خراب ہوگئی، کیا اس طرح غیر قانونی قابضین کو چھوڑدیں ؟، لوگ احتجاج شروع کردیں اور ہم ریاست کی رٹ ختم کردیں، کیا قبضہ مافیا کے سامنے سرجھکا دیں؟ کراچی کو اسی طرح چھوڑدیں ؟، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم کارروائی روک دیں گے تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ متاثرین کی بحالی اور متبادل جگہ کا انتظام حکومت خود کرے،ایڈوکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ چار ہفتے کا وقت دے دیں مسئلے کا حل نکالیں گے۔میئر کراچی نے کہا کہ ہم عمل درآمد کررہے ہیں بس گھروں کو نہ توڑا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے گھروں کو توڑنے کا حکم تو نہیں دیا، آپ خود کررہے ہیں تو ہمارا مسئلہ نہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے دیکھا تھا نالے پر عمارت بنی ہوئی ہے، اس کا کیا ہوا؟، ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ نہرِ خیام پر ایک عمارت بنی ہوئی ہے، میئر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ باغ ابنِ قاسم میں ایک عمارت ہے، وہاں مسلح لوگ بیٹھے ہیں اور شاید معاملہ ہائی کورٹ میں ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میئر صاحب آپ کو کسی نے نہیں روکا کام جاری رکھیں، کون ہے قبضہ کرنے والا بتائیں ، ابھی ہائی کورٹ سے فائل منگواتے ہیں، اچھی طرح سن لیں غیر قانونی عمارت اور قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی کابینہ نے وزارتوں اور سینئر حکام کا ’انٹرٹینمنٹ اینڈ گفٹ‘ بجٹ ختم کرنے کا بل منظور کرلیا۔وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں 30 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا اور ملک کی سیاسی، سلامتی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خصوصی عدالت نے غدار ی کیس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے سوالنامہ تیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کا بیان ویڈیو لنک یا کمیشن کے ذریعے ریکارڈ کرانے پر معاونت طلب کرلی ۔خصوصی عدالت میں ... تفصیل

 کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے جعلی اکاونٹس کیس اسلام آباد منتقل کرنے کے بینکنگ کورٹ کے فیصلے پر حکمِ امتناع دینے کی آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست مسترد کردی تاہم دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔چیف جسٹس سندھ ... تفصیل