محکمہ داخلہ نے مریم نواز ،ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دیدی              یوم پاکستان پریڈ ،چار گھنٹے کیلئے اسلام آباد کی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ              ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو قدرتی آفات سے بچاوکیلئے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کردی              بلاول بھٹو کوغداروطن قراردینے کے مطالبے کی قرارداد جمع              مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے بچے سمیت 7 کشمیری شہید              مريم نواز کی کل جيل کے باہر دھرنا دينے کی دھمکی              کر اچی:مفتی تقی عثمانی کے قافلے پر فائرنگ ،2افراد جاں بحق              پاکستان پیپلز پارٹی کا نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ              اٹک میں گھر کی چھت گرنے سے 6افراد جا ں بحق       
تازہ تر ین

لاکھ افراد کی نوکریاں چھن جانے کا خطرہ ، تشویشناک خبر نے سب کو افسردہ کردیا

اسلام آباد(نیو زڈیسک) اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا اور پیسیفک (یو این اسکیپ) نے بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی کشیدگی کے تناظر میں اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ اگر یہ تجارتی کشیدگی حل نہیں ہوئی تو خطے کو کم از کم 27 لاکھ نوکریوں کا نقصان دیکھنا پڑ سکتا ہے۔قومی اخبار رپورٹ کے مطابق اسکیپ کی جانب سے جاری کردہ ’تجارت اور سرمایہ کاری رپورٹ 2018‘ میں کہا گیا کہ ہنر مند ورکرز کے مقابلے میں غیر ہنرمند ورکرز کے لیے روزگار کے نقصانات 66 فیصد زیادہ ہوں گے۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ پیداوار کی تبدیلی اور وسائل کو دوبارہ مختص کرنے کی وجہ سے اس سیکٹر میں لاکھوں مزدور اپنی نوکریاں کھو بیٹھیں گے اور دوسری ملازمت ڈھونڈنے پر مجبور ہوجائیں گے۔اس کے علاوہ وہ جو کم مہارت رکھتے ہیں، جیسے خواتین، ان کو بے روزگاری کے زیادہ خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق تجارتی ماحول کی بہتری کے ساتھ ساتھ اسے ڈیجیٹلائز اور آسان بنانے کی کوششوں کے ساتھ علاقائی انضمام نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں اہم عنصر ہوگا۔تاہم لوگوں کی حمایت کے لیے دیگر اعزازی پالیسیاں، جیسے لیبر اور تعلیم کی پالیسیز کے انضمام کی کوششوں اور تجارتی مزاحمت کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی نے سپلائی چین کو متاثر کیا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے جبکہ 2018 کی پہلی سہ ماہی کے بعد تجارتی ترقی میں کمی اس کا ثبوت ہے۔اگر یہی تجارتی کشیدگی برقرار رہی تو 2018 کے تقریباً 4 فیصد برآمدی تجارتی حجم کے مقابلے میں 2019 میں برآمدی تجارتی ہدف 2.3 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ 2018 میں 4 فیصد کم ہونے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا گرتا ہوا رجحان آئندہ سال میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹیرف میں اضافہ، جو پہلے ہی اپنی جگہ لے چکا ہے، امکان ہے کہ عالمی جی ڈی پی 150 ارب ڈالر تک کم کردے گا اور اگر یہ برقرار رہا تو علاقائی جی ڈی پی 40 ارب ڈالر تک کم ہوسکتی ہےادارے کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2019 میں اگر ٹیرف جنگ میں مزید اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں اور صارفین کے اعتماد میں کمی آتی تو عالمی جی ڈی پی 400 ارب ڈالر کے قریب کم ہوسکتی ہے جبکہ علاقائی جی ڈی پی بھی 117 ارب ڈالر کم ہوسکتی ہے۔اسی طرح خطے میں تقریباً 90 لاکھ لوگ کام سے باہر نکل رہے ہیں جبکہ بہت سے ورکرز مختلف شعبوں میں نئی ملازمتوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاتیر محمد وہ بات کہہ دیتے ہیں جو دیگر مسلمان لیڈر کہنے سے ڈرتے ہیں۔پاکستان ملائیشیا سرمایہ کاری سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’نشان پاکستان‘ سے نواز ا۔ ایوان صدر میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے اعزاز میں عشایئے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ ... تفصیل

لاہور( نیوز ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز کی جانب سے اپنے والد سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرنے اور ملاقات کی اجازت ملنے تک جیل کے باہر رہنے کے بیان کے بعد محکمہ ... تفصیل