دفترخارجہ کانیوزی لینڈ سانحے میں شہید ہونے والے 4 افراد کے ورثا کے لئے ویزہ کی سہولت کا اعلان              پیپلزپارٹی نے رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا              سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل پر سفری پابندی عائد              سینیٹ کمیٹی: سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان میں آنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب              سانحہ نیوزی لینڈ : شہید پاکستانیوں کی تعداد 6 ہوگئی              پاک فوج نے بھارت کاجاسوس ڈرون مار گرایا              شیخ رشید کا وزیر اعظم کی جانب سے مزدوروں کےلئے تین ، تین ہزار روپے انعام کا اعلان              کرائسٹ چرچ مساجد پر حملہ کرنے والا انتہا پسند عدالت میں پیش،قتل کا الزام عائد              آصف زرداری نے میگا منی لانڈرنگ کیس کی اسلام آباد منتقلی کا فیصلہ چیلنج کردیا       
تازہ تر ین

شدید مالیاتی بحران نے پاکستان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ؟آنیوالی 10 سالوں میں کیا ہونیوالا ہے ؟ جانئے

اسلام آباد(نیو زڈیسک) مالیاتی درجہ بندی دینے والے 3 بڑے اداروں میں سے ایک’ فِچ ریٹنگز‘ نے پاکستان کی قرض لینے کی درجہ بندی کو زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، خراب مالی صورتحال اور انتہائی بھاری واجب الادا رقم کے باعث کم کر کے ’بی نیگیٹو‘ کردیا۔قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیو یارک سے تعلق رکھنے والی ریٹنگ ایجنسی کا کہنا تھا کہ زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں میں اضافے، مالی صورتحال مسلسل خراب ہونے ملکی مجموعی پیداوار کی شرح کے اعتبار سے قرضو ں میں اضافے کی وجہ سے بیرونی مالیاتی خطرے کے پیشِ نظر طویل عرصے تک برقرار رہنے والی ریٹنگ ’بی‘ سے کم کر کے ’بی نیگیٹو‘ کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے لیے ہونے والے کامیاب مذاکرات بیرونی مالیاتی صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے نفاذ میں خطرات موجود ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اور اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اکستان کے منقولہ ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور یہ 6 دسمبر کو 7 ارب 30 کروڑ ڈالر کی سطح تک گرچکے تھےجو کہ ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کے برابر ہے۔ریٹنگ ایجنسی نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بیرونی قرض کی ادائیگیوں میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں متوقع کمی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ مجموعی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ لگایا۔اس بارے میں مالیاتی ایجنسی کا کہنا تھا کہ خود مختار قرض کی ذمہ داریوں میں آئندہ 3 برس میں فی سال 7 سے 9 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کرنا ہوگی جس میں آئندہ سال اپریل تک ایک ارب ڈالر کے یورو بونڈ کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے 10 سالوں تک بیرونی قرضوں کا حجم زیادہ رہنے کا امکان ہے کیوں کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق آؤٹ فلو کا آغاز 2020 میں ہوگا۔فچ ریٹنگز کے لگائے گئے معاشی اندازوں کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی عدم موجودگی میں غیر ملکی ذرِ مبادلہ کے منقولہ ذخائر کم ہوتے ہوئے حالیہ مالی سال کے اختتام تک 7 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ایجنسی کا کہنا تھا کہ ملکی مجموعی پیداوار کے اعتبار سے جون 2018 میں ختم ہونے والے مالی سال میں قرضوں کی شرح 72.5 فیصد رہی تاہم اب روپے کی قدر میں کمی اور مالی خسارے میں اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال میں یہ شرح 75.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔اس کے ساتھ ادارے کے لگائے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح بھی گزشتہ مالی سال کے 3.9 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مزید خبر یں

کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئررہنمااور سابق قائد حزب اختلاف سید خورشیداحمد شاہ نے کہاہے کہ ایسا لگتا ہے ملک میں کوئی جمہوریت نہیں جس کو چاہو پکڑو بعد میں پوچھا جائے گا۔سیاست دانوں کو صرف جمہوریت اور حق حکمرانی مانگنے کی سزا دی جارہی ہے،راولپنڈی ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عمر چیمہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت کی فکر ہوتی تو نون لیگی اس پر سیاست نہ کرتے۔ایک بیان میں عمر چیمہ نے کہاکہ نواز شریف کی بیماری کو لے کر شہباز ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیر بخاری نے آئی آر آئی سروے پر رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود ساختہ اور من پسند سروے حکمرانوں کی عوام دشمنی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔ایک بیان میں نیر بخاری ... تفصیل