وزیراعظم کا 27 مارچ سے غربت کے خاتمے سے متعلق جامع پروگرام شروع کرنے کا اعلان              سونے کی قیمت ملکی بلند ترین سطح پر ،مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 70ہزار 500روپے              آصف زرداری کی بریت کے خلاف نیب کی درخواست سماعت کے لئے مقرر              ڈاکٹر سعید کے بیرون ملک جانے پر پابندی ختم              اسد منیر مبینہ خودکشی ،چیئر مین نیب کا انکوائر ی خود کر نے کا فیصلہ              چین سے 2ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے              نقیب اﷲقتل کیس میں راﺅ انوار سمیت دیگر ملزمان پر فرد جر م عائد              نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ نارمل، پنجاب حکومت کو بھجوادی              کرائسٹ چرچ واقعہ: جیسنڈا آرڈرن کا حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان       
تازہ تر ین

وزیراعظم عمران خان مجھے شوکت عزیز جیسے لگنا شروع ہو گئے، دعوی نے ن لیگیوں کو آگ بگولہ کردیا

اسلام آباد(نیو زڈیسک)صحافی عارف نظامی کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف چاہے کال کوٹھری میں ہوں یا کہیں بھی ایسا ممکن ہو نہیں ہو سکتا ہے ن لیگ کے اہم فیصلے ان کے بغیر ہوں۔ہر فیصلہ دونوں کی مشاورت سے ہوں گا ابھی بھی نواز شریف نا اہل ہیں تاہم وہ پارٹی کے رہبر ہیں۔اور اگر شہباز شریف کی بات کریں تو ان کا زیادہ مشکل وقت گزر گیا ہے وہ ضمانت کے اہل ہیں جب کہ وہ چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی بن گئے ہیں۔عارف نظامی کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی سوچ کو اس طرح سے ختم نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو بھی جیل کے اندر کر دو اور اُس کو بھی جیل کے اندر کر دو اور اس کے بعد بس ہماری ہی چلے گی اور ایسا پی ٹی آئی ہی سوچ رہی تھی۔عارف نظامی نے کہا مجھے عمران خان بطور وزیراعظم شوکت عزیز جیسے لگنے لگ گئے ہیں۔عارف نظامی نے کہا کے اختیارات کے استعمال کے حوالے سے مجھے دونوں ایک جیسے لگتے ہیں۔عارف نظامی نے یہ بھی کہا کہ کسی رہنما کو جیل میں ڈال دینے سے اس پارٹی کی سیاست ختم نہیں ہوتی۔واضح رہے اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زردرای پر مشکل وقت گزر رہا ہے۔ممکنہ طور پر اس سال کا آخر دونوں پر بھاری گزرے گا لیکن اصل قابل غور بات یہ ہے کہ تحریک انصاف جو کہ موجودہ حکومت میں بھی ہے وہ اس تمام صورتحال سے کیسے فائدہ اٹھائے گی۔اسی حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے معروف صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پہلے چھ ماہ تو عمران خان کے فائدے میں رہیں گے کیونکہ وہ اپوزیشن کو ایک طرح سے بلکل بلڈوز کر دیں گے۔اگر نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں جیل چلے جاتے ہیں تو یوں سمجھیں کہ ملک اپوزیشن سے خالی ہو جائے گا اور اس میں اکیلے عمران خان ہوں گے لیکن ایسا صرف چھ ماہ ہی ہو گا۔عمران خان کو چھ ماہ فری ہینڈ دیا جا رہا ہے یا پھر وہ لے رہے ہیں لیکن اس کے بعد عام آدمی کا برداشت کا لیول کم ہوتا ہے اور ساری ذمہ داری عمران خان پر عائد ہو گی کیونکہ ابھی تو حکومت ناکامی کا سارا ملبہ گذشتہ حکومتوں پر گراتی ہے تاہم بعد میں ایسا نہیں چلے گا کیونکہ دونوں جماعتوں کے لیڈر جیل میں ہوں گے اور ایسی صورت میں عمران خان کو پرفارمنس دکھانی پڑے گی۔

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے نئے لوکل نظام کو آئندہ ایک ماہ میں تمام ضروری مراحل مکمل کرکے نافذ العمل کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ ماضی میں خیبر پختونخواہ میں ویلیج کونسلز کے قیام کا تجربہ بہت کامیاب رہا،اس نظام کو مزید ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے نادر اپاسپورٹ اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹس کو شمالی اور جنوبی وزیرستان میں موبائیل دفاترقائم کرنے کی ہداہت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرستان کی عوام کے مسائل بلاتفریق حل کیے جائیں گئے،وفاقی حکومت وزیرستان کے عوام ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیر بخاری نے کہاہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو نیب کے ذریعے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک بیان میں نیر بخاری نے عمران خان کے بیان رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری ... تفصیل