کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

بڑی خبر آگئی ، انتظار کی گھڑیاں ختم ، احتساب عدالت نے نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ سنادیا

اسلام آباد(نیو زڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز میں 7 سال قید کی سزا سنادی گئی جبکہ فلیگ شپ ریفرنسز میں انہیں بری کردیا گیا۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریفرنسز پر فیصلہ سنایا، سابق وزیراعظم نواز شریف فیصلہ سننے کے لیے خود بھی عدالت میں موجود ہیں۔عدالت آنے سے قبل نواز شریف نے عباس آفریدی کے فارم ہاؤس پر وکلاء اور سینئر رہنماؤں سے مشاورت بھی کی۔احتساب عدالت کے باہر لیگی کارکنوں اور سینئر رہنماؤں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے، جن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، احسن اقبال، مرتضی جاوید عباسی، رانا تنویر، راجا ظفر الحق، مشاہد اللہ خان اور خرم دستگیر سمیت دیگر شامل ہیں۔اس موقع پرسیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، احتساب عدالت کے اطراف پولیس کے ایک ہزار اہلکار تعینات ہیں جبکہ کمرہ عدالت میں نواز شریف کو کلوز پروٹیکشن یونٹ سیکیورٹی فراہم کرے گا۔ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رینجرز بھی موجود ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے عدالت کے اطراف چیکنگ بھی کی۔نواز شریف کی آمد کے موقع پر لیگی کارکنوں اور پولیس میں دھکم پیل ہوئی، جبکہ پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے۔لیگی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے—۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدالت آمد کے موقع پر ان کی گاڑی کو لیگی کارکنوں نے گھیر لیا، نعرے بازی اور پھول بھی نچھاور کیے۔اس موقع کی ویڈیو نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹر پر شیئر کی اور ساتھ میں لکھا، ‘عوام کی محبت میں گِھرا ہوا نواز شریف۔سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کو سنائے گئے پاناما کیس کے فیصلے کے نتیجے میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا گیا تھا جبکہ عدالت عظمیٰ نے نیب کو شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا۔8 ستمبر 2017 کو نیب نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز، فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور ایون فیلڈ ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے۔احتساب عدالت ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ پہلے ہی سنا چکی ہے جس میں نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی جسے بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا تھا۔دوسری جانب 19 اکتوبر2017 کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف پر فرد جرم عائد ہوئی جبکہ 20 اکتوبر2017 احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف پر فرد جرم عائد کی اور حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزمان قرار دیا گیا۔احتساب عدالت نمبر ایک اور دو میں نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں، جن میں سے العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔سابق وزیراعظم مجموعی طور پر 130 بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وہ 70 بار احتساب عدالت نمبر 1 کے جج محمد بشیر اور 60 بار احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے۔احتساب عدالت نے مختلف اوقات میں نواز شریف کو 49 سماعتوں پر حاضری سے استثنیٰ دیا، جج محمد بشیر نے 29 جبکہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کو 20 سماعتوں پر حاضری سے استثنیٰ دیا۔احتساب عدالت نمبر ایک میں 70 میں سے 65 پیشیوں پر مریم نواز میاں نواز شریف کے ساتھ تھیں۔ایون فیلڈ میں سزا کے بعد نواز شریف کو 15 بار اڈیالہ جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔نیب کا الزامنیب کا الزام ہے کہ نواز شریف نے وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کے دور میں اپنے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے نام پر بے نامی جائیدادیں بنائیں جبکہ اس دوران ان کے بچے زیر کفالت تھے۔شریف خاندان کا مؤقفدوسری جانب شریف خاندان نے مؤقف اپنایا ہے کہ العزیزیہ اسٹیل ملز قطری سرمایہ کاری سے خریدی گئی اور حسن نواز کو کاروبار کے لیے سرمایہ بھی قطری نے فراہم کیا، جس کی بنیاد پر فلیگ شپ کمپنی بنائی گئی۔شریف خاندان کے مطابق تمام جائیدادیں بچوں کے نام ہیں اور نواز شریف کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ ریفرنس مخالفین اور جے آئی ٹی کی جانبدار رپورٹ پر بنایا گیا اور استغاثہ ان کے خلاف ثبوت لانے میں ناکام ہوگیا۔

مزید خبر یں

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم کے اعزاز میں دفتر خارجہ میں ظہرانہ دیا۔ سینیٹر گراہم امریکی سینٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین اور آرمڈسروسز، مالیات و بجٹ سے متعلق کمیٹی کے سینئر رکن ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ... تفصیل

اسلام آباد (نیوزڈیسک) بھارتی سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے وزیر اعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں کرتار پور کوریڈور کے حوالے سے تجاویز پیش کیں ۔بھارتی کرکٹر نے کہاکہ یہ سکھوں کیلئے مقدس ترین زمین ہے ۔ سدھو نے کہاکہ کوریڈور پر ... تفصیل

لاڑکانہ(نیوزڈیسک) پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں میں توسیع کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں کمی اور 18 ویں ترمیم کے مبینہ رول بیک کے خلاف فروری سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، تفصیلات کے ... تفصیل