پاکستان نے غیرملکی سیاحوں کے ویزے کیلئے این اوسی کی شرط ختم کردی              منی لانڈرنگ کیس منتقلی کیخلاف اپیل، آصف زرداری کو جواب الجواب جمع کرانے کا حکم              لاہور ہائیکورٹ کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کر نے کا حکم              سپریم کورٹ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کر لی       
تازہ تر ین

پاکستان تحریک انصاف کی وزیر مملکت زرتاج گُل ایک بار پھر سرکاری افسر کی کُرسی پر بیٹھ گئیں

اسلام آباد (نیو زڈیسک)حکومتی وزیر مملکت زرتاج گُل ایک مرتبہ پھر سرکاری افسر کی کُرسی پر بیٹھنے کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت زرتاج گُل نے پی آئی اے آفس کا دورہ کای تو وہاں خود مینجر کی سیٹ پر بیٹھ گئیں اور منیجر کو سامنے بٹھا کر سوال جواب کرتی رہیں ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی خاتون وزیر مملکت زرتاج گُل کے پولیس افسر کی نشست پر بیٹھنے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس پر انہیں ایک سرکاری دفتر کو سیاسی دفتر بنانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیاسوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصویر میں وزیر مملکت زرتاج گل کو ایس ایچ او کی سیٹ پر بیٹھے دیکھا گیا جب کہ ایس ایچ او ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے۔یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور زرتاج گُل پر ہونے والی تنقید کے زرو پکڑنے کے بعد وزیر مملکت نے معاملے کی وضاحت کے لیے خود ہی میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اور ایک ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ میڈیا پر جو تصاویر چلائی گئیں وہ میرے ہی فیس بُک پیج سے اُٹھائیں گئی تھیں،یہ تب کی تصویر ہے جب میں بی این پی سے ملاقات کے لیے گئی اور انہوں نے مجھے بتایا کہ بی این پی فورس میں گذشتہ بیس سال سے بھرتیاں نہیں ہوئیں اور اگر آپ ہمارے تھانے کی حالت دیکھیں تو ہمارے پاس لکھنے کو کچھ نہیں ہے، بیٹھنے کے لیے کُرسیاں نہیں ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے لیے گذشتہ حکومت نے کچھ نہیں کیا اس لیے ہم نے ایک تجویز لکھی ہے جس پر اگر آپ دستخط کر دیں تو ہم یہ کمشنر کو دے دیں گے تاکہ ہماری ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔جس پر میں نے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے ان سے کہا کہ بالکل آپ میری فورس ہیں، آپ کو بلوچوں کو بھی پولیس کے محکمے میں بھرتی کرنا پڑے گا۔ ززرتاج گُل نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ انہوں نے مجھے اس دورے کے دوران بے حد عزت دی، یہ تصویر اسی دورے کی ہےاور میں نے ہی یہ تصویر فیس بُک پر پوسٹ کی تھی۔اس پر رپورٹنگ کرتے ہوئے ایک مقامی چینل کے رپورٹر نے مبینہ طور پر غلط رپورٹنگ کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے مقامی ایس ایچ او کو ایک گھنٹہ کھڑا رکھا۔ پہلی بات تو وہ ایس ایچ او تھے ہی نہیں وہ بی این پی پولیس تھی اور دوسری بات یہ کہ میں نے نان کسٹم گاڑیوں کے لیے کوئی بھی دستخط نہیں کیے یہ تمام باتیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ تاہم اب ان کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ انہوں نے پی آئی اے آفس کے دورے کے دوران مینجر کی نشست سنبھال لی جس پر انہیں ایک مرتبہ پھر سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے البتہ تاحال زرتاج گُل کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

مزید خبر یں

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیدیا ۔ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس وقاص رﺅف مرزا پر ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بنک اکاونٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی۔سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سیکرٹری اطلاعات پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان تمہارے پاس نیب ہے تو بلاول بھٹو پاس کے عوام ہیں۔ ایک بیان میں ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ آج پھر دنیا دیکھے گی ،عوام کی طاقت کس کے ... تفصیل