وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 ہندو لڑکیوں کے اغوا کا نوٹس لے لیا              برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

بے نظیر بھٹو کو ہم سے بچھڑے 11 سال بیت گئے سابق وزیراعظم نے مرنے سے چند روز قبل جہاز میں ائیرہوسٹس سے کیا کہا تھا؟ اچانک دھماکے دار خبر آگئی

اسلام آباد(نیو زڈیسک)بے نظیر بھٹوشہید کی 11 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔بے نظیر بھٹو کو ہم سے بچھڑے 11 سال بیت گئے ہیں۔ بےنظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو دہہشت گردوں نے راولپنڈی کے لیاقت با غ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔سندھ حکومت کی جانب سے آج صوبہ بھر عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔انتخابات قریب ہونے کے باعث وہ ملک بھر میں دورے کر رہی تھیں۔اسی حوالے سے قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اکتوبر 2007ء میں بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی سے کچھ عرصہ پہلے ایسپن کو لوریڈو جاتے ہوئے انہوں نے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد،اہلیہ کے علاوہ مشہور رائیٹر cheryl Benard کے ساتھ اکھٹے سفر کیا جب ایک ائیر ہوسٹس نے بے نظیر کو کوکیز پیش کی تو انہوں نے پہلے تو لینے سے انکار کر دیا تھا لیکن پھر ائیر ہوسٹس کو واپس بلایا اور مزاحیہ انداز میں کہا کہ ” کیا فرق پڑتا ہے،ویسے بھی میں نے چند مہینوں بعد مر جانا ہے۔یہ الفاظ دہراتے ہوئے انہوں نے کوکیز کھانا شروع کر دیں۔مصنف Munoz Heraldo کی معروف کتاب “Benazir Murder With Away Getting Bhutto’s” میں مذید لکھا گیا ہے کہ جس روز بے نظیر کو قتل کیا گیا جلسہ گاہ کے خارجی راستوں پر بنے چیک پوائنٹس پر حفاظت کے لیے مامور پولیس اور رینجرز اہلکار بے نظیر کی لیاقت باغ روانگی سے قبل ہی اپنی جگہ چھوڑ چکے تھے۔خود کش حلمہ آور کے اڑانے سے قبل ہی بے نظیر بھٹو کو گردن اور سینے میں گولیاں لگ چکی تھیں۔کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بی بی کے قاتلانہ حملے میں پیپلز پارٹی کا ایک سرگرم رکن بھی ملوث تھا۔جس نے بے نظیر بھٹو کے سیکورٹی گارڈ خالد شہنشہاہ کی طرف اشارہ کیا جو بعدازاں روپوش ہو گیا تھا۔

مزید خبر یں

ملتان(نیوز ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بھارت سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت میں الیکشن تک اتار چڑھاو دکھائی دےگا، ہمیں مکار دشمن سے مکمل چوکنا رہنا ہے، ہم اپنا دفاع کریں گے ۔ میڈیا ... تفصیل

کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 26 مارچ کو کراچی سے لاڑکانہ ٹرین مارچ کا اعلان کر دیا۔پیپلز پارٹی نے حکومت کے خلاف ٹرین مارچ کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔ ٹرین مارچ کا آغاز کراچی سے 26 مارچ کی صبح کیا ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو اکھاڑ پھینکا ہے ، اب ترقی کی راستے پر گامزن ہے،ہمسایہ اور دیگر دوست ممالک خطے میں امن کے منتظر ہیں،وسط ایشیائی ریاستوں نے نوروز فیسٹیول کا ... تفصیل