وفاقی حکومت کا طیاروں کے حادثات کی تفتیش کیلئے نیا بورڈ بنا نے کا فیصلہ              بلوچستان ،سنجاوی میں لیویز چوکی پر حملہ،6اہلکار شہید       
تازہ تر ین

نئی حکومت نے اپنا وعدہ پورا کردیا دوست ہو تو چین جیسا، بے روز گار نوجوان تیاری کرلیں ، چین نے پاکستانیوں کو زبردست خوشخبری سنادی ، بھارت کو مرچیں لگ گئیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں چینی سفارتخانہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)پر تازہ ترین پیش رفت پر مبنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 5 برسوں میں سی پیک کے آغاز سے اب تک مکمل ہونے والے 11 ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ زیر تعمیر منصوبوں پر18.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ پاکستانی عوام کیلئی75 ہزار ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کئے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت 20 مزید منصوبے پائپ لائن میں ہیں جو بیلٹ اینڈ روڈ اینی شیٹو(بی آر آئی)کے تحت سب سے بڑے اور جامع منصوبے ہونے کے علاوہ چین اور پاکستان کیلئے بڑے سیاسی ،معاشی اور سماجی اہمیت کے حامل منصوبے ہیں۔ سی پیک پر عملدرآمد کے لئے دونوں اطراف نے سی پیک پر طویل المدت منصوبہ بندی کیلئے وزارتی سطح کے مشترکہ تعاون کی کمیٹی اور پلاننگ ،انرجی،ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر،گوادر پورٹ ڈویلپمنٹ، انڈسٹریل کوآپریشن، سوشل اکنامک ڈیویلپمنٹ اور بین الاقوامی تعاون پر7 مشترکہ ورکنگ گروپوں کا قیام عمل میں لایا ہے۔انہوں نے سماجی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی تعاون پر مشترکہ ورکنگ گروپوں کے قیام کا بھی فیصلہ کررکھا ہے۔ توانائی کے 15 منصوبوں کو ترجیح بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی جو 11 ہزار 110 میگاواٹ توانائی کی پیداواری گنجائش کے منصوبے ہیں جن میں سی7 منصوبے مکمل اور فعال ہیں جبکہ دیگر 6 زیر تعمیر ہیں جو6 ہزار 410 میگاواٹ توانائی کی گنجائش کے حامل ہیں۔اس وقت زونرجی300 میگاواٹ سولر پارک،50 میگاواٹ کا دائود ونڈ فارم، جھمپیر یو ای پی ونڈ پاور پراجیکٹ،سچل ونڈ فارم 50 میگاواٹ،ساہیوال2×660 میگاواٹ کوئلے سے چلنے والا توانائی کا منصوبہ،پورٹ قاسم2×660 میگاواٹ کوئلے سے چلنے والا توانائی کا منصوبہ اور 3 گوارجیز سیکنڈ اینڈ تھرڈ ونڈ پاور پراجیکٹس مکمل ہوچکے ہیں۔ ان منصوبوں سے پاکستان کے قومی گرڈ میں3240 میگاواٹ بجلی شامل ہوئی ہے۔سی پیک کے توانائی کے منصوبے مختلف شعبوں میں صارفین کو قابل خرید توانائی فراہم کررہے ہیں۔ توانائی منصوبوں کا ٹیرف 16 سی18 روپے سے تیزی سے کم ہو کر8 روپے فی یونٹ پر آگیا ہے۔ سی پیک توانائی منصوبوں کے متعارف ہونے سے پاکستان کا گیس اور ایل این جی پاور پلانٹس سے انحصار تیزی سے کم ہوا ہے جو مجموعی گنجائش کی50 فیصد پر محیط ہے۔ سی پیک توانائی کے منصوبے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لائے ہیں اور جو بی او(او)ٹی کے مطابق تعمیر کئے گئے ہیں۔سی پیک توانائی منصوبوں کیلئے کسی قسم کے قرضوں میں اضافہ حکومت پاکستان کے بجائے چینی سرمایہ کاروں کو برداشت کرنا ہوگا۔ انفراسٹرکچر منصوبوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت قراقرم ہائی وے فیزII (حویلیاں۔تھاکوٹ سیکشن)،کراچی،لاہور موٹروی(سکھر ،ملتان سیکشن)اور لاہور اورینج لائن کی3 منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ راولپنڈی سے خنجراب آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کا کام جاری ہے۔ان جاری منصوبوں پر چینی حکومت کی طرف سے 2 فیصد شرح منافع کے ساتھ ترجیحی قرضے کی شکل میں فنڈنگ کی ہے،جس کا مجموعی حجم5.874 ارب ڈالر ہے۔ایم ایل ون ریلوے اور کے سی آر کی اپ گریڈیشن زیر غور ہے۔ رپورٹ میں گوادر بندرگاہ سے متعلق کہاگیا ہے کہ اب تک چین کی سمندر پار بندرگاہوں کے انتظام کی کمپنی(سی او بی ایچ سی)نی250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بندرگاہ کی تزئین و آرائش پر کی ہے۔5 نئے کوائی کرینیں ایک لاکھ ایم۔2 سٹوریج یارڈ،سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کی2 لاکھ20 ہزار گیلن یومیہ پانی کا منصوبہ،سیوریج ڈسپوزل سسٹم کے 2 منصوبے اور کارگو ہینڈلنگ آلات کی تنصیب اور 80 ہزار ایم 2 گرین سپیس کا بندرگاہ میں اضافہ اور 2017ء میں گوادر بندرگاہ پر4 لاکھ ٹن کارگو سامان کی ہینڈلنگ کی گئی ہے۔ گوادر فری زون گوادر کے شمالی حصہ میں واقع ہے۔مجوزہ ترقیاتی مدت 2015 سی2030 جو 4 مراحل میں ہے۔ 923 ہیکٹرفری زون میں ابتدائی علاقہ (25 ہیکٹر)اور شمالی علاقہ(898 ہیکٹر)شامل ہے۔ تقریباً30 کمپنیوں نے فری زون میں سرمایہ کاری کی ہے جس میں تقریباً474 ملین ڈالر کی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری شامل ہے۔ فری زون کی تعمیر سے گوادر شہر مستقبل قریب میں خطہ کا کاروباری مرکز بن جائے گا۔ گوادر مشرقی خلیج ایکسپریس وے کی تعمیر کا منصوبہ نومبر 2017 میں شروع کیا گیا اور ایک سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا یہ منصوبہ36 ماہ میں مکمل ہوگا۔صنعتی زون سے متعلق چینی سفارتخانہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2017 سی2018 کے دوران9 خصوصی اقتصادی زونز کی فہرست چین کو فراہم کی، چینی ماہرین کے پینل نے سائٹ وزٹ بھی کئے ہیں اور 6 اقتصادی زونز کی فزیبیلٹی سٹڈیز بھی منظوری کیلئے بی او آئی کو ارسال کردی ہیں، جبکہ 3 فزیبلیٹی جمع کرانا باقی ہیں۔2018 کے اوائل میں حکومت پاکستان نے بی او آئی کو ہدایت کی کہ مزید موزوں اہداف تشکیل دے ۔ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق سی پیک کے منصوبوں سے پاکستانی افراد کیلئی75 ہزار سے زائد مواقع فراہم کئے اور چینی کمپنیوں نے متعدد منصوبوں کے مقامی کمپنیوں کو سب کنٹریکٹ بھی دیئے ۔ایک پیشہ وارانہ خدمات کی فرم کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق سی پیک سی2015-30 تک پاکستان کیلئے 70 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزارت منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات کے سی پیک سنٹر آف ایکسی لینس کی ایک حالیہ سٹڈی کے مطابق موجودہ طے شدہ منصوبوں کے تحت سی پیک سی1.2 ملین ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوسکیں گے۔سماجی ذمہ داریوں کے تحت چینی کمپنیاں ووکیشنل تربیت و تعلیم،انسانی وسائل کی ترقی میں بھی سرمایہ کاری کررہی ہیں۔پاکستانی طلباء کو تعلیمی وظائف کی فراہمی ،میڈیکل کئیر اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے چھوٹے منصوبے بھی شامل ہیں۔

مزید خبر یں

لاہور( نیوز ڈیسک) سابق وزیر اعظم و پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ملکی لیڈر شپ کو بے توقیر کرنا ملک کے حق میں نہیں اور آگے جا کر جمہوریت کےلئے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں ،پیپلزپارٹی عدالتوں کا احترام کرتی ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری اور سابق صدر آصف علی زر داری کی نیب پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ، پولیس ، اے ٹی ایس رینجرز کی بھارتی نفری تعینات رہی ، غیر ... تفصیل

لاہور(نیوز ڈیسک) سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے عمران خان کوطالبان خان قرار دےتے ہوئے کہا ہے کہ اسلا م آباد میں طالبان خان حکومت کی جھلک نظر آ رہی ہے،یہ میرے خاندان کی تیسری نسل ہے جس کا جعلی ... تفصیل