اپوزیشن کا مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور معاشی امور پرحکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان              چمن ،پاک ،افغان سرحدی علاقے میں فورسز کی کارروائی، ایک دہشت گرد گرفتار              وزیراعظم نے اپوزیشن کے اسمبلی سے واک آﺅٹ کو این آر او لینے کی کوشش قرار دے دیا              فوادچوہدری کا ایک مرتبہ پھروزیراعلیٰ سندھ کے استعفے کا مطالبہ              کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

نئی حکومت نے اپنا وعدہ پورا کردیا دوست ہو تو چین جیسا، بے روز گار نوجوان تیاری کرلیں ، چین نے پاکستانیوں کو زبردست خوشخبری سنادی ، بھارت کو مرچیں لگ گئیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں چینی سفارتخانہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)پر تازہ ترین پیش رفت پر مبنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 5 برسوں میں سی پیک کے آغاز سے اب تک مکمل ہونے والے 11 ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ زیر تعمیر منصوبوں پر18.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ پاکستانی عوام کیلئی75 ہزار ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کئے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت 20 مزید منصوبے پائپ لائن میں ہیں جو بیلٹ اینڈ روڈ اینی شیٹو(بی آر آئی)کے تحت سب سے بڑے اور جامع منصوبے ہونے کے علاوہ چین اور پاکستان کیلئے بڑے سیاسی ،معاشی اور سماجی اہمیت کے حامل منصوبے ہیں۔ سی پیک پر عملدرآمد کے لئے دونوں اطراف نے سی پیک پر طویل المدت منصوبہ بندی کیلئے وزارتی سطح کے مشترکہ تعاون کی کمیٹی اور پلاننگ ،انرجی،ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر،گوادر پورٹ ڈویلپمنٹ، انڈسٹریل کوآپریشن، سوشل اکنامک ڈیویلپمنٹ اور بین الاقوامی تعاون پر7 مشترکہ ورکنگ گروپوں کا قیام عمل میں لایا ہے۔انہوں نے سماجی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی تعاون پر مشترکہ ورکنگ گروپوں کے قیام کا بھی فیصلہ کررکھا ہے۔ توانائی کے 15 منصوبوں کو ترجیح بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی جو 11 ہزار 110 میگاواٹ توانائی کی پیداواری گنجائش کے منصوبے ہیں جن میں سی7 منصوبے مکمل اور فعال ہیں جبکہ دیگر 6 زیر تعمیر ہیں جو6 ہزار 410 میگاواٹ توانائی کی گنجائش کے حامل ہیں۔اس وقت زونرجی300 میگاواٹ سولر پارک،50 میگاواٹ کا دائود ونڈ فارم، جھمپیر یو ای پی ونڈ پاور پراجیکٹ،سچل ونڈ فارم 50 میگاواٹ،ساہیوال2×660 میگاواٹ کوئلے سے چلنے والا توانائی کا منصوبہ،پورٹ قاسم2×660 میگاواٹ کوئلے سے چلنے والا توانائی کا منصوبہ اور 3 گوارجیز سیکنڈ اینڈ تھرڈ ونڈ پاور پراجیکٹس مکمل ہوچکے ہیں۔ ان منصوبوں سے پاکستان کے قومی گرڈ میں3240 میگاواٹ بجلی شامل ہوئی ہے۔سی پیک کے توانائی کے منصوبے مختلف شعبوں میں صارفین کو قابل خرید توانائی فراہم کررہے ہیں۔ توانائی منصوبوں کا ٹیرف 16 سی18 روپے سے تیزی سے کم ہو کر8 روپے فی یونٹ پر آگیا ہے۔ سی پیک توانائی منصوبوں کے متعارف ہونے سے پاکستان کا گیس اور ایل این جی پاور پلانٹس سے انحصار تیزی سے کم ہوا ہے جو مجموعی گنجائش کی50 فیصد پر محیط ہے۔ سی پیک توانائی کے منصوبے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لائے ہیں اور جو بی او(او)ٹی کے مطابق تعمیر کئے گئے ہیں۔سی پیک توانائی منصوبوں کیلئے کسی قسم کے قرضوں میں اضافہ حکومت پاکستان کے بجائے چینی سرمایہ کاروں کو برداشت کرنا ہوگا۔ انفراسٹرکچر منصوبوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت قراقرم ہائی وے فیزII (حویلیاں۔تھاکوٹ سیکشن)،کراچی،لاہور موٹروی(سکھر ،ملتان سیکشن)اور لاہور اورینج لائن کی3 منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ راولپنڈی سے خنجراب آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کا کام جاری ہے۔ان جاری منصوبوں پر چینی حکومت کی طرف سے 2 فیصد شرح منافع کے ساتھ ترجیحی قرضے کی شکل میں فنڈنگ کی ہے،جس کا مجموعی حجم5.874 ارب ڈالر ہے۔ایم ایل ون ریلوے اور کے سی آر کی اپ گریڈیشن زیر غور ہے۔ رپورٹ میں گوادر بندرگاہ سے متعلق کہاگیا ہے کہ اب تک چین کی سمندر پار بندرگاہوں کے انتظام کی کمپنی(سی او بی ایچ سی)نی250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بندرگاہ کی تزئین و آرائش پر کی ہے۔5 نئے کوائی کرینیں ایک لاکھ ایم۔2 سٹوریج یارڈ،سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کی2 لاکھ20 ہزار گیلن یومیہ پانی کا منصوبہ،سیوریج ڈسپوزل سسٹم کے 2 منصوبے اور کارگو ہینڈلنگ آلات کی تنصیب اور 80 ہزار ایم 2 گرین سپیس کا بندرگاہ میں اضافہ اور 2017ء میں گوادر بندرگاہ پر4 لاکھ ٹن کارگو سامان کی ہینڈلنگ کی گئی ہے۔ گوادر فری زون گوادر کے شمالی حصہ میں واقع ہے۔مجوزہ ترقیاتی مدت 2015 سی2030 جو 4 مراحل میں ہے۔ 923 ہیکٹرفری زون میں ابتدائی علاقہ (25 ہیکٹر)اور شمالی علاقہ(898 ہیکٹر)شامل ہے۔ تقریباً30 کمپنیوں نے فری زون میں سرمایہ کاری کی ہے جس میں تقریباً474 ملین ڈالر کی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری شامل ہے۔ فری زون کی تعمیر سے گوادر شہر مستقبل قریب میں خطہ کا کاروباری مرکز بن جائے گا۔ گوادر مشرقی خلیج ایکسپریس وے کی تعمیر کا منصوبہ نومبر 2017 میں شروع کیا گیا اور ایک سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا یہ منصوبہ36 ماہ میں مکمل ہوگا۔صنعتی زون سے متعلق چینی سفارتخانہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2017 سی2018 کے دوران9 خصوصی اقتصادی زونز کی فہرست چین کو فراہم کی، چینی ماہرین کے پینل نے سائٹ وزٹ بھی کئے ہیں اور 6 اقتصادی زونز کی فزیبیلٹی سٹڈیز بھی منظوری کیلئے بی او آئی کو ارسال کردی ہیں، جبکہ 3 فزیبلیٹی جمع کرانا باقی ہیں۔2018 کے اوائل میں حکومت پاکستان نے بی او آئی کو ہدایت کی کہ مزید موزوں اہداف تشکیل دے ۔ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق سی پیک کے منصوبوں سے پاکستانی افراد کیلئی75 ہزار سے زائد مواقع فراہم کئے اور چینی کمپنیوں نے متعدد منصوبوں کے مقامی کمپنیوں کو سب کنٹریکٹ بھی دیئے ۔ایک پیشہ وارانہ خدمات کی فرم کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق سی پیک سی2015-30 تک پاکستان کیلئے 70 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزارت منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات کے سی پیک سنٹر آف ایکسی لینس کی ایک حالیہ سٹڈی کے مطابق موجودہ طے شدہ منصوبوں کے تحت سی پیک سی1.2 ملین ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوسکیں گے۔سماجی ذمہ داریوں کے تحت چینی کمپنیاں ووکیشنل تربیت و تعلیم،انسانی وسائل کی ترقی میں بھی سرمایہ کاری کررہی ہیں۔پاکستانی طلباء کو تعلیمی وظائف کی فراہمی ،میڈیکل کئیر اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے چھوٹے منصوبے بھی شامل ہیں۔

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی کے بینظیر بھٹو شہید ہسپتال کا اچانک دورہ کیا اور وہاں موجود صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر وفاقی وزیر صحت عامر کیانی، معاون خصوصی افتخار درانی اور سینٹر فیصل جاوید بھی وزیراعظم کے ہمراہ ... تفصیل

راولپنڈی (نیوز ڈیسک)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاہے کہ پاکستان کی خوشحالی بلوچستان کی خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تیسری نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاءنے جی ایچ کیو میں ملاقات کی ۔ آئی ایس پی ... تفصیل

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر و چیئر مین ائیر مارشل ارشد محمود ملک نے رواں سال مارچ میں 5سالہ سٹریٹجک بزنس پلان حکومت کو بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پلان میں ایوی ایشن پالیسی ،آمدن بڑھانے ،مکمل ... تفصیل