پشاور: احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کا 2 روز کے لیے او پی ڈی کھولنے کا اعلان              ڈالر کی قدر میں اضافہ، انٹربینک مارکیٹ میں 152 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا              گلگت بلتستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا نیٹ ورک پکڑا گیا              اسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 12.25 فیصد کردی گئی              نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت سماعت کے لئے مقرر,2 رکنی بنچ کل سماعت کرے گا              جعلی ڈگری کیس ،پی آئی اے کے 8 ملازمین کی نظر ثانی و متفرق درخواستیں خارج              حکومتِ پنجاب کا چندہ جمع کرنے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم              نواز شریف نے سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کر لیا              اپوزیشن کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کیلیے اے پی سی بلانے کا اعلان       
تازہ تر ین

بزی ٹاپ سانحے میں بلوچ دہشتگرد تنظیم ملوث ہے ٹریننگ کیمپ ایران میں ہیں، پاکستان کا سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بزی ٹاپ سانحے میں بلوچ دہشتگرد تنظیم ملوث ہے جس کے ٹریننگ اور لاجسٹکس کیمپ ایران میں واقع ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ دورہ ایران سے قبل 20 کے قریب دہشت گردوں نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا ،حملے میں پاکستان نیوی کے 10 ،پاک فضائیہ کے 3 اور کوسٹ گارڈ کا ایک ملازم شہید کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پوری قوم جاننا چاہتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا؟۔ انہوں نے کہاکہ سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کا ایک اتحاد سامنے آچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچ تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے الزام تراشی کےلئے بھارت کی طرح جلد بازی نہیں کی،ہم نے مصدقہ اطلاعات کا انتظار کیا۔انہوں نے کہاکہ بلوچ گروہ کو ایران کی سرزمین سے مدد فراہم کی گئی ہے ،ایران کو قابل ایکشن شواہد اور ٹھکانوں کی اطلاعات فراہم کردئیے گئے ہیں،ہم امید کرتے ہیں کہ ایران ان تنظیموں کے خلاف بھرپور کاروائی کرےگا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم افغانستان سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گا۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح قیام امن کےلئے افغانستان کی مدد کرتے ہیں ویسی مدد کی توقع بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے میری تفصیلی بات ہوئی ہے،ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستانی عوام کے جذبات سے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ نے بھرپور کاروائی کی یقین دہانی کروائی ہے،ایرانی وزیر خارجہ نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل حوصلہ افزا ہے۔شاہ محمود قریشی نے بتایاکہ وزیر اعظم  اتوار سے ایران کا دورہ کررہے ہیں،وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر یہ معاملہ تفصیلی طور پر زیر بحث آئےگا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ایک نئی سدرن کمان بارڈر کی نگرانی کےلئے تشکیل دی ہے،نئی کمان کا مقصد بارڈر کو مزید مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک نئی فرنٹیئر کور بھی تشکیل دے رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور پاکستان مل کر بارڈر کو پرامن رکھنے اور دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کےلئے جوائنٹ بارڈر سنٹر بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ نو سو پچاس کلومیٹر پاکستان ایران بارڈر سرحدی دیوار بنائی جائےگی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ایران کی جانب سے ہمیشہ کارروائی کی درخواست پر بھرپور کارروائی کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایرانی سرحدی محافظوں کے معاملے پر ہماری کارروائی سامنے ہے۔انہوں نے کہاکہ 12 میں سے 9 ایرانی سرحدی محافظوں کو پاکستانی فورسز نے بازیاب کروایا تھا۔انہوںنے کہاکہ کچھ عناصر ایسے موجود ہیں جو ایران اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ اسپائلرز ہوتے ہیں جو حالات بہتر ہو رہے ہیں انہیں خراب کرنا چاہتے ہیں ،ایسے عناصر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی پاکستان کے عہدیدران ایران جانے لگتے ہیں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں،ایسا کیوں ہوتا ہے ؟جواب ایک ہی لائن میں دونگا جانم سمجھا کرو۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ بھارت سے مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے چاہے حکومت جو بھی آئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال کو سامنے رکھ کر بھارت آگے بڑھے۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان میں ایسی حکومت موجود یے جو مسائل کا حل اور عوامی فلاح کے لیئے پر عزم ہے۔پاکستان کے تینوں پڑوسی ممالک سے تعلقات کے سوال پر انہوں نے کہاکہ ہمارا افغانستان سے مستقبل جڑا ہوا ہے، ایران سے بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات بہتر ہوں، تاہم کچھ پابندیاں آڑے آجاتی ہیں،اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود ہمسائے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور ہم اس کی کوشش کر رہے ہیں۔پاک ایران سرحد پر باڑ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا بدل گئی ہے، پہلے ایسی دہشتگردی نہیں تھی، اس کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھانے پڑے اور باڑ لگانا بھی اسی کا ایک قدم ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاک ایران تعلقات سے غافل نہیں ہوں، اس واقعے پر غم و غصہ ہے لیکن ہم بھائی اور دوست ہیں اور اسے کے حوالے سے توقعات رکھی ہیں۔

مزید خبر یں

کراچی (نیوزڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور بد اعمالیوں کے باعث وسائل سے مالا مال اور بہترین افرادی قوت کی صلاحیت کا حامل ملک بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔جماعت اسلامی ضلع شرقی کے تحت ... تفصیل

پشاور(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے عوام کے مسائل بتدریج حل ہورہے ہیں ۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد سے سرکاری افسران عوام کے سامنے بٹھا کر ان کے اہم مسائل کے حوالے ... تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر میڈیا گرے گا تو ریاست کا چوتھا ستون ہونے کی وجہ سے ریاست کو بھی نقصان ہوگا۔معاون خصوصی وزیراعظم برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس ... تفصیل