حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

یورپ، امریکا اور چین کے مقابلے میں ہمیں کورونا کے ساتھ غربت کا بھی سامنا ہے، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یورپ، امریکا اور چین کے مقابلے میں ہمیں کورونا کے ساتھ غربت کا بھی سامنا ہے، معاشی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کیے تاہم وبا کی وجہ سے توازن نہیں رہا،ہمیں کرنٹ خسارے سمیت مالی خسارے کا سامنا ہے،کورونا وائرس عالمی مسئلہ بن کر ابھرا تو اس کا ردعمل بھی عالمی نوعیت کا ہونا چاہے تھا،متاتاثر ہونے والے تمام ممالک کو اس کے تدارک کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، پاکستان میں وبا کی روک تھام اور انسداد وبا کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر فعال ہے،اگر لاک ڈاؤن کیا تومجموعی طور پر 15 کروڑ عوام بھوک کے ہاتھوں پریشان ہوجائیں گے ،کورونا وائرس کے حوالے سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالکوں کی حالت یکسر مختلف ہے ،ہمیں اپنے وسائل نظام صحت کی طرف کرنے ہوں گے۔ ویڈیو لنک پر کورونا وائرس کے تناظر میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے انتظامی امور میں توازن رکھنے کے لیے رضاکاروں کی ٹیم تشکیل دی تاکہ پہلے سے دباؤ کا شکار اداروں کو ریلیف ملے اور ایڈمنسٹریشن اپنے امور نبھائے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ رضاکاروں کی ٹیمیں معاشرے میں سماجی فاصلے رکھنے اور دیگر حکومتی اقدامی میں مدد کرتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ معاشی اصلاحات کے ثمرات جلد نمایاں ہونے تھے، ہم نے متعدد مشکل فیصلے لیے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے توازن برقرار نہیں رہا اور اب ہمیں کرنٹ خسارے سمیت مالی خسارے کا سامنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس عالمی مسئلہ بن کر ابھرا تو اس کا ردعمل بھی عالمی نوعیت کا ہونا چاہے تھا۔انہوں نے ممالک کے مابین رابطے کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔وزیراعظم نے معاشی مشکلات کے تناظر میں کہا کہ ہمیں وبا کی وجہ سے کئی محاذ پر مشکلات کا سامنا ہے، عالمی معاشی منڈی میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں ایکسپورٹ کی کمی کا سامنا ہے اور ساتھ ہی ترسیلات زر میں بھی غیرمعمولی کمی آئی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں وبا کی روک تھام اور انسداد وبا کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر فعال ہے جس کا بنیادی مقصد وبا کے نتیجے میں کیسز میں ہونے والے اضافے کا جائزہ لینا، قرنطینہ سینٹر کے قیام اور انہیں فعال رکھنا، وائرس کے عدم پھیلاؤ کے لیے اقدامات اٹھانا و دیگر شامل ہیں۔لاک ڈاؤن سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں دہری مشکل کا سامنا ہے، اگر لاک ڈاؤن کیا تومجموعی طور پر 15 کروڑ عوام بھوک کے ہاتھوں پریشان ہوجائیں گے اور وائرس کے نئے کیسز کو روکنے کے لیے اقدامات بھی کرنے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد یومیہ یا ہفتہ وار اجرت کے حامل مزدور ہیں اور اگر ملک گیر لاک ڈاؤن کرتے مزدور کے اہلخانہ بھوک سے تڑپ اٹھتے اور حکومت اس بات کی متحمل نہیں کہ طویل المعیاد کے لیے انہیں وسائل دے سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مزدوروں کی پریشانی کو کسی حد تک دور کرنے کی کوشش کی اور نقد رقوم کی تقسیم کا منصوبہ شروع کیا اور ڈھائی کروڑ خاندانوں میں نقد رقوم تقسیم کی۔وزیراعظم عمران خان نے زور دیا کہ مذکورہ اقدام جزوقتی تھا اس لیے ہم ںے مراحلہ وار لاک ڈاؤن میں نرمی شروع کی تاکہ معاشی سرگرمیاں شروع ہوں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تعمیراتی شعبے کو لاک ڈاؤن کی پابندیوں سے آزاد کیا تاکہ کسی حد تک مزدوروں کی مالی پریشانی دور ہو اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوں۔عالمی اقتصادی فورم کا کووڈ ایکشن پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالکوں کی حالت یکسر مختلف ہے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ملکوں میں وائرس مغربی ممالک کی طرح تیزی سے نہیں پھیلا۔ زیر اعظم نے کہاکہ کورونا کے باعث دنیا بھر میں ایکسپورٹ کم ہوئیں، آئل قیمتیں کریش ہوئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جی 20 ممالک کی جانب سے قرضوں میں ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے وسائل نظام صحت کی طرف کرنے ہوں گے۔

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے پر توجہ نہ دینے کے باعث کورونا کی وبا ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، ویکسین بننے تک ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا،کورونا وائرس کا حقیقی حل ویکسین ہی ہے، صحت کے ... تفصیل

اسلام آباد (نیوزڈیسک)تحریک انصاف کی حکومت نے سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لیے وزیر اعظم کے انتخاب کی طرز پر اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ چیئرمین کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وفاقی ویزر برائے نارکوٹکس ... تفصیل

کراچی (نیوزڈیسک) سندھ حکومت نے عید کی اجتماعات، ختم القرآن اور شب قدر کے موقع پر عبادات کی اجازت دینے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان مواقع پر ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ہوگا اس بات کا اعلان صوبائی وزرا ناصر شاہ، ... تفصیل

Columns