اٹک میں گھر کی چھت گرنے سے 6افراد جا ں بحق              وزیر اعظم عمران خان کا قوم کو بہت جلد بڑی خوشخبری دینے کا اعلان              حکومت کی جانب سے دو ارب روپے کا رمضان پیکج منظور ،یوٹیلی اسٹورز کارپوریشن نے کئی اشیاءمہنگی کردیں       
تازہ تر ین

اس دوشیزہ مٹی پر نقش کف پا کوئی بھی نہیں

اس دوشیزہ مٹی پر نقش کف پا کوئی بھی نہیں

جھڑتے پھول برستی بارش تیز ہوا کوئی بھی نہیں

یہ دیواریں اور دروازے سب آنکھوں کا دھوکا ہے

کہنے کو ہر باب کھلا ہے اور کھلا کوئی بھی نہیں

چہرے جانے پہچانے تھے روحیں بدلی بدلی تھیں

سب نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور ملا کوئی بھی نہیں

ایک سے منظر دیکھ دیکھ کر آنکھیں دکھنے لگتی ہیں

اس رستے پر پیڑ بہت ہیں اور ہرا کوئی بھی نہیں

اڑتا بادل چہرے بنتا اور مٹاتا جاتا ہے

لاکھوں آنکھیں دیکھ رہی تھیں لیکن تھا کوئی بھی نہیں

جس کے بیچ گھرا بیٹھا ہوں ڈھیر ہے بیتے لمحوں کا

سب میری جانب آئے ہیں اور گیا کوئی بھی نہیں

جلتی مٹی سوکھے کانٹے گہرے پانی تیکھے سنگ

سب خطرے پاؤں کے نیچے سر پہ بلا کوئی بھی نہیں

حرف لکھوں تو پڑھنے والے کیا کیا نوحے سنتے ہیں

کان دھروں تو ان حرفوں میں صوت و صدا کوئی بھی نہیں

شہزاد احمد
//////////////////

عشق وحشی ہے جہاں دیکھے گا

حسن کو سینے سے لپٹا لے گا

غم اگر ساتھ نہ تیرا دے گا

پھر تجھے کوئی نہیں پوچھے گا

جاگ اٹھیں گی پرانی یادیں

تو مگر خواب گراں چاہے گا

دل میں طوفان اٹھیں گے لیکن

ایک پتا بھی نہیں لرزے گا

ہر طرف چھائے گی وہ خاموشی

اپنی آواز سے تو چونکے گا

انہی ٹھہرے ہوئے لمحوں کا خیال

دل سے طوفاں کی طرح گزرے گا

نہ بسیں گے یہ خرابے دل کے

کوئی مڑ کر نہ ادھر دیکھے گا

اے مرے حسن گریزاں کب تک

تو مری قدر نہ پہچانے گا

مجھے ذرہ نہ سمجھنے والے

تو ستاروں میں مجھے ڈھونڈے گا

مجھ سے کترا کے گزرنے والے

تو مری خاک کو بھی چومے گا

//////////////

اسی باعث زمانہ ہو گیا ہے اس کو گھر بیٹھے

وہ ڈرتی ہے کہیں کوئی محبت ہی نہ کر بیٹھے

ہمارا جرم یہ ہے ہم نے کیوں انصاف چاہا تھا

ہمارا فیصلہ کرنے کئی بیداد گر بیٹھے

کہاں تک خانۂ دل اب میں تیری خیر مانوں گا

ذرا سیلاب آیا اور ترے دیوار و در بیٹھے

میسر پھر نہ ہوگا چلچلاتی دھوپ میں چلنا

یہیں کے ہو رہوگے سائے میں اک پل اگر بیٹھے

بہت گھوما پھرا تو پھر بھی خالی ہے ترا کاسہ

ادھر تو دولت دل ہاتھ آئی ہم کو گھر بیٹھے

اڑا کر لے گئی دنیا ہمیں کن کن جھمیلوں میں

نہ پھر فرصت ملی ہم کو نہ پھر ہم عمر بھر بیٹھے

فضا میں گرد کے ذروں کی صورت ہم معلق ہیں

نہ اڑنے کی تمنا کی نہ فرش خاک پر بیٹھے

اڑی ہے خاک یادوں کی امیدوں کی ارادوں کی

یہ مٹی تھی کہ بجھتی راکھ پر ہم پاؤں دھر بیٹھے

پلٹ کر جب بھی دیکھا خاک کی چادر نظر آئی

نہ گرد راہ بیٹھی ہے نہ میرے ہم سفر بیٹھے

////////////////////

جان مقدر میں تھی جان سے پیارا نہ تھا

میرے لیے صبح تھی صبح کا تارا نہ تھا

بحر شب و روز میں بہہ گئے تنکے سے ہم

موج بلا خیز تھی اور کنارا نہ تھا

جان کے دشمن تھے سب لوگ ترے شہر کے

عمر کٹی جس جگہ پل بھی گزارا نہ تھا

سرد رہی عمر بھر انجمن آرزو

خار و خس شوق میں کوئی شرارہ نہ تھا

کس کے لیے جاگتے کس کی طرف بھاگتے

اتنے بڑے شہر میں کوئی ہمارا نہ تھا

شوق سفر بے سبب اور سفر بے طلب

اس کی طرف چل دیے جس نے پکارا نہ تھا

دور سہی منزلیں اب نہ رہیں ہمتیں

ٹوٹ گئے پائے شوق دل ابھی ہارا نہ تھا

///////////////////

جانے کس سمت سے ہوا آئی

بار بار اپنی ہی صدا آئی

حسن بھی ہیچ سامنے جس کے

میرے حصے میں وہ بلا آئی

مجھے سجدے کیے فرشتوں نے

کام میرے مری خطا آئی

کیسے برسی گھٹا سمندر پر

اپنی آنکھیں کہاں گنوا آئی

جاگنے کا سوال ہی نہ رہا

آج کی رات نیند کیا آئی

پلٹ آئی امید اس در سے

مری ہی آبرو گنوا آئی

صبر ہی کر لیا تو پھر شہزادؔ

میرے ہونٹوں پہ کیوں دعا آئی

//////////////////

A G Josh

A G Josh

Abbas Tabish

Abbas Tabish

Abdul Ahad Saaz

Abdul Ahad Saaz

Abdul Hameed Adam

Abdul Hameed Adam

Abdul Rehman Ihsan Dehlvi

Abdul Rehman Ihsan Dehlvi

Abdul Rehman Momin

Abdul Rehman Momin

Abdul Rehman Wasif

Abdul Rehman Wasif

Abdullah Javed

Abdullah Javed

Abhishek Shukla

Abhishek Shukla

Abid Almi

Abid Almi

Abrar Ahmed

Abrar Ahmed

Abrar Shah Jhanpori

Abrar Shah Jhanpori

Abroo Shah Mubarak

Abroo Shah Mubarak

Absar Abdul Aali

Absar Abdul Aali

Abu Muhammad Saher

Abu Muhammad Saher

Abubakar Ebaad

Abubakar Ebaad

Ada Jafri

Ada Jafri

Adeem Hashmi

Adeem Hashmi

Adil Mansuri

Adil Mansuri

Ahmed Ali Barqi Azami

Ahmed Ali Barqi Azami

Ahmed Ashfaq

Ahmed Ashfaq

Ahmed Fakhir

Ahmed Fakhir

Ahmed Faraz

Ahmed Faraz