حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

کھلاڑی فنکار کی طرح ہوتے ہیں، اچھی پرفارمنس پر داد چاہتے ہیں، اظہر محمود

لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل رائونڈر اور سابق بولنگ کوچ اظہر محمود نے کہا ہے کہ تماشائیوں کے بغیر کرکٹ کا مزہ نہیں ہوگا اور کھلاڑی بوریت محسوس کریں گے تاہم فی الوقت کرکٹ کی واپسی کے لیے ایسا کرنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ایک انٹرویو میں اظہر محمود نے کہا کہ اس وقت تو سب ہی کی کوشش ہے کہ کرکٹ واپس ہو کیوں کہ بورڈز کو اپنی آمد کا سلسلہ بھی دیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ کھلاڑی بغیر تماشائیوں کے بور ہوجائیں گے کیوں کہ کھلاڑی بھی فنکاروں کی طرح ہوتے ہیں، انہیں اچھا لگتا ہے جب اچھے شاٹ یا اچھی گیند پر لوگ ان کو داد دیں، یہ نہیں ہوگا تو مزہ ماند پڑ جائیگا لیکن کرکٹ کی واپسی یقینی بنانے کے لیے اگر کچھ وقت کے لیے ایسا کرنا بھی پڑتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، جب حالات بہتر ہوجائیں گے تو تماشائی بھی میدانوں میں واپس آجائیں گے۔انہوں نے اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ کینٹ کے لیے کھیلتے تھے تو چار پانچ ہزار تماشائی میدان میں ہوتے تھے پھر جب آئی پی ایل کھیلنے گئے تو وہا ں پینتیس ہزار تماشائیوں کے سامنے کھیلا اور پھرجب وہ آئی پی ایل کھیل کر واپس آئے تو وہ ماحول مس کرنے لگے ، انہوں نے کہا کہ تماشائی جو ماحول بناتے ہیں اس کا پلیئرز پر اثر ہوتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں اکیس ٹیسٹ اور ایک سو تینتالیس ایک روزہ میچز کھیلنے والے اظہر محمود کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے گیند کو چمکانے کے لیے تھوک یا پسینے کا استعمال روکنا مناسب عمل ہوگا لیکن ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ گیند بنانے والے ادارے کوئی ایسا مواد تیار کریں جس سے اننگز کے دوران گیند کو چمکایا جاسکے تاکہ بیٹ اور بال کا بیلنس برقرار رہے۔ایک سوال پر سابق آل رائونڈر کا کہنا تھا کہ لاک ڈائون کے دوران کرکٹرز کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنے کھیل کا از خود تجزیہ کریں اور یہ طے کریں کہ کہاں ان میں کمی ہے اور وہ اپنی کارکردگی کیسے بہتر کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار بریک ملنا پلیئر کے لیے اچھا ہوجاتا ہے کیوں کہ اس دوران یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ میدان سے دور ہوکر اپنے کھیل پر مکمل تجزیہ کرے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی سوچیں۔

مزید خبر یں

لاہور (نیوزڈیسک) قومی کرکٹر عمر اکمل نے میچ فکسنگ کی پیشکش سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس میں تین سال کی پابندی کی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت عمر اکمل کو دو مختلف ... تفصیل

کراچی (نیوزڈیسک)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی بیٹی اسمارہ 8 برس کی ہوگئیں ، شاہد آفریدی کے مداحوں کی بڑی تعداد اسمارہ کو سالگرہ کی مبارکباد دی ۔اسمارہ کو سالگرہ کی مبارکباد دینے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ سوشل میڈیا بالخصوص ... تفصیل

لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا ہے کہ سچن ٹنڈولکر اور ویرات کوہلی کا موازنہ درست نہیں، اگر سابق بیٹسمین اس وقت کرکٹ کھیلتے تو ایک لاکھ 30 ہزار رنز اسکور کرسکتے تھے۔یاد رہے کہ ٹنڈولکر نے اپنے کیریئر میں 34 ہزار ... تفصیل